غزہ اور غرب اردن پانچ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غرب اردن میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ فائرنگ میں دو فلسطینی ہلاک ہو گئے جن میں ایک مقامی شدت پسند رہنما تھا۔ جنین میں اسرائیلی فوجی دستوں نے ایک مکان کو سیل کرکے اس میں چھپے ہوئے اسلامک جہاد کے رہنما کو ہلاک کر دیا۔ بعد میں فلسطینیوں نے غزہ میں یہودی بستی پر مارٹر گولے پھینکے جس میں ایک فلسطینی اور چینی ملازم ہلاک ہو گیا۔ غزہ میں دیگر ایک مقام پر اسرائیلی فوجی دستوں نے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ مصر کی سرحد پر بنی ہوئی فصیل سے کود کر آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شخص ہتھیاروں کی سمگلنگ میں ملوث تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں چار ماہ سے جاری جنگ بندی کے درمیان ہوئی ہیں جس کے بعد غزہ اور غرب اردن میں تشدد میں کمی آئی ہے۔ غرب اردن کے قصبے قباتیا میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان فائرنگ اس وقت ہوئی جب فوج نے آدھی رات کو قصبے میں داخل ہوکر گرفتاریاں شروع کر دیں۔ اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی شدت پسند مارواہ کامل اسرائیل پر حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ فوج نے اس مکان کو گھیرے میں لے لیا جہاں کامل نے پناہ لے رکھی تھی۔ اس کاروائی میں ایک فلسطینی سپاہی بھی مارا گیا۔ شدت پسند گرپ حماس نے مارٹر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے حماس کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسلامک جہاد رہنما کی ہلاکت کے خلاف احتجاجاً کئے گئے تھے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود چھاپوں اور گرفتاریوں میں اب تک 500 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔اور ان کے خیال میں اس سے جنگ بندی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||