طالبہ ہلاک، جنگ بندی کو دھچکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں ایک فلسطینی طالبہ کی ہلاکت سے علاقے میں کچھ روز سے قائم امن کے ماحول کو دھچکہ لگا ہے۔ مذکورہ طالبہ کھیل کے میدان میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئی۔ اس کے رد عمل میں فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیلی علاقوں میں راکٹ فائر کیے۔ اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق دس سالہ نوران دیب کو رفاہ میں اقوام متحدہ کے قائم کردہ ایک سکول میں سر میں گولی لگی۔ ایک اور طالبہ کو ہاتھ میں زخم آیا۔ عینی شاہدین نے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن اس نے ابتدائی تحقیق کے بعد الزامات کو مسترد کیا۔ اس واقعے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان اسرائیل کے غرب اردن کے شہروں سے انخلاء کے بارے میں پروگرام کے مطابق بات چیت ہوئی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے اس علاقے میں فائرنگ نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبہ کی ہلاکت کے وقت قریب ہی فلسطینی کچھ لوگوں کے حج سے واپس لوٹنے کی خوشی میں فائرنگ کر رہے تھے۔ فلسطینی رہائشیوں نے اس طرح کے کسی جشن سے انکار کیا ہے۔ حماس نے اسرائیل علاقے میں چھ راکٹ فائر کیے جس سے ایک گھر تباہ ہوگیا۔ حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا دارومدار اسرائیلی فوج کے رویہ پر ہے۔ ہلاک ہونے والی نوران دیب کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے جنگ بندی کے بارے میں سنا تھا لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نظر نہیں آتا‘۔ طالبہ کی ہلاکت دو دنوں میں ایسا دوسرا واقعہ ہے۔ اتوار کو ایک پینسٹھ سالہ شخص کو ایک فوجی چوکی کے پاس سے گزرتے ہوئے گولی مار دی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||