غرب اردن سے انخلاء میں تعطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے فلسطینی سیکیورٹی اداروں کے سربراہ کی طرف سے ہتھیار بند فلسطینی تنظیموں کو غیرمسلح کرنے سے انکار کے بعد مقبوضہ غرب اردن کے شہروں کو فلسطینی کنٹرول میں دینے کا عمل غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ غربِ اردن کے تین شہروں کو فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کرنے کا معاملہ اس وقت تک موخر کر دیا جائے جب تک فلسطینی حکام شدت پسند تنظیموں کو غیر مسلح نہیں کرتے۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ نے یہ فیصلہ وزیر دفاع شاؤل موفاظ کے مشورے پر کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے غرب اردن کے پانچ شہر فلسطینیوں کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن ابھی تک صرف جیریکو اور تولکرم ہی فلسطینی انتظامیہ کے حوالے ہو سکے ہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں پر الزام لگاتا ہے کہ وہ شدت پسندوں کو غیر مسلح نہیں کر رہے اور فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے وعدے پورے نہیں کر رہا ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ غرب اردن کے شہر رملہ میں دو فلسطینی لڑکے اس وقت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے جب فلسطینی متنازعہ فصیل کی تعمیر کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||