تلکرم کی منتقلی پر رضامندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی اور اسرائیلی حکام کئی دنوں کے مذاکرات کے بعد غرب اردن کے شہر تلکرم کے کنٹرول کی منتقلی پر رضامند ہو گئے ہیں۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں شہر کا کنٹرول فوراً فلسطینیوں کے ہاتھوں میں آ جائے گا۔ گزشتہ ماہ اسرائیل نے پانچ قابض شہروں کی سکیورٹی کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ہی جریکو شہر کو فلسطینی حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ اب رملہ، بیت اللحم، اور قلقلیہ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کیا جائے گا۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی کانفرنس میں اسرائیل نے غرب اردن کے پانچ شہروں کی واپسی کا وعدہ کیا تھا لیکن خود کش حملوں کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر ہو گئی۔ تلکرم کی منتقلی کی تصدیق اس وقت ہوئی جب شہر کے قریب کے دو دیہاتوں کے کنٹرول پر سمجھوتہ ہو گیا۔ یہ دونوں دیہات کچھ عرصہ تک مزید اسرائیل کے کنٹرول میں رہیں گے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ تل ابیب میں حملہ کرنے والا گروپ انہیں دیہاتوں میں سرگرم ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوجی کمانڈر جنرل موفاظ نے بتایا کہ اسرائیل فلسطینی کنٹرول والے علاقوں کے انتظامات پر کڑی نظر رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ فلسطینی غرب اردن کے علاقوں میں اپنی ذمہ داریوں سے متعلق وعدوں کو پورا کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||