فلسطینیوں کو عالمی حمایت درکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی قیادت کی حمایت کے اظہار کے لیے لندن میں ہونے والی ایک کانفرنس میں تئیس ممالک کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے ایک روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوتا کہا کہ وہ اصلاحات کے علاوہ قیام امن اور شدت پسندوں پر قابو پانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں اٹھائے گئے نکات عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی شریک ہیں۔ وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے تنازعہ کے دو ریاستی مؤثر حل کی کوشش کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل سے مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی سلامتی میں اضافہ ہو گا۔ محمود عباس نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اسرائیل کے شانہ بشانہ کام کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے تل ابیب میں ہونے والے خودکش حملے کی دوبارہ مذمت کی۔ کانفرنس کے آغام سے پہلے امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے کہا تھا کہ منگل کو لندن میں ہونے والی کانفرنس بین الاقوامی برادری کو ایک موقع فراہم کرے گی کہ وہ فلسطینی عوام پر یہ واضح کر سکے کہ فلسطینی علاقوں میں اصلاحات کو عالمی حمایت حاصل ہے۔ تئیس ملکوں کے نمائندوں کے اس اجلاس کو ’امن کانفرنس‘ نہیں کہا جا رہا بلکہ اسے مشرق وسطیٰ کے سلسلے میں منعقد ہونے والے ایک اجتماع کا نام دیا جا رہا ہے۔ کونڈالیزا رائس کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس سے یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ ایسے عناصر کو، جو مشرق وسطی میں قیام امن کے خلاف ہیں، تنہا کر دیا جائے گا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر فلسطینی رہنما محمود عباس پر زور دیا کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ان شدت پسند تنظیموں میں اسلامی جہاد شامل ہے جس نے گزشہ جمعہ تل ابیب میں ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں پانچ اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||