محمود عباس کی کوششیں جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ غزہ میں یہودی بستیوں پر حملے کے بعد محمود عباس جمعہ کو عسکری تنظیموں سے ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل انہوں نے یہودی بستیوں پر حملے روکنے میں ناکامی پر تین اعلیٰ پولیس افسروں کو معطل کر دیا تھا۔ اسرائیل نے کہا ہےکہ اگر محمود عباس جنگ بندی پر اتفاق کرنے کے باوجود حملے نہیں روک سکتے تو اسے خود کارروائی کرنا ہوگی۔ اسرائیل کے نائب وزیر دفاع نے فوری کارروائی پر محمود عباس کی تعریف کی لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان سے شدت پسندوں کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کو ملنے والا موقع ختم ہو رہا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن نے کہاہے کہ حماس کا یہودی بستیوں پر حملہ محمود عباس کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ نامہ نگار کے مطابق فلسطینی رہنما کے لیے یہ ماننا مشکل ہوگا کہ حماس کو فوجی کارروائی کی دھمکی سے دبایا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کی انتہائی جدید فوج کئی برسوں سے یہودی بستیوں پر میزائل حملے روکنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق محمود عباس حماس کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کریں گے۔ انہوں نےہمیشہ مذاکرات کے راستے کو پسند کیا ہے۔ حماس نے یہودی بستیوں پر حملے کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ایسا اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ایک فلسطینی کی ہلاکت کے بعد کیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہیں شک تھا کہ وہ فلسطینی حملہ آور ہے۔ فوج نے کہا کہ انہوں نے وارننگ شاٹ بھی فائر کیے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ محمود عباس کی طرف سے سیکیورٹی حکام کی برطرفی سے فلسطینی فوج میں اصلاحات کا طے شدہ عمل تیز ہو جائے گا۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ یہ دیکھنے کے بعد جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ بنیں گے کہ اسرائیل اس پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||