حماس فائر بندی کے پاس پر آمادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اسرائیل سے ہونے والی مفاہمت کا پاس کرے گی۔ حماس نے یقین دہانی فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس سے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمت کے پاس پر ہونے والے مذاکرات کے بعد کرائی ہے۔ محمود عباس چند ہی گھنٹے قبل غزہ آئے تھے اور ان کی آمد کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ وہ چگہتے ہیں کہ حماس، اسرائیل سے چند روز پہلے ہونے والے جنگ بندی کے اس معاہدے کا پاس کرے۔ حماس کے سینیئر رہنماؤں نے کہا کہ وہ مفاہمت کے بارے میں حتمی فیصلے سے قبل بحث و تمحیص کریں گے اور اس کے بعد اعلان کریں گے کہ مستقل فائر بندی کی جانی چاہیے یا نہیں۔ معاہدے کو طے پائے ابھی چند ہی روز ہوئے ہیں اور مشکلات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند دونوں ہی ایک دوسرے پر حملوں کا الزام محمود عباس پر عسکریت پسندوں کی طرف سے یہودی بستیوں پر حملے روکنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کا سخت دباؤ ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق محمود عباس کے لیے یہ مشکل ثابت ہوگا کیونکہ حماس کا خیال ہے کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ پورا نہیں کرے گا۔ فلسطینی عسکریت پسندوں نے اشارے دیئے ہیں کہ اگر اسرائیل حملے نہ کرے تو وہ جنگ بندی کے معاہدے کو باضابط طور پر تسلیم کیے بغیر اپنی کارروائیاں روک سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||