پانچ سو فلسطینی قیدیوں کی رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی جیل سے رہا ہونے والے پانچ سو فلسطینی قیدی اپنے گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔گزشتہ دس سالوں میں اسرائیل کی جیلوں سے اتنی بڑی تعداد میں فلسطینوں قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا۔ مصر کی سرحد کے قریب واقع اسرائیلی فوجی اڈے كيتسوت سے قیدیوں کو بسوں کے قافلے میں روانہ کیا گیا۔ اس قافلے میں فوجی ایمبولینسیں بھی شامل تھیں۔ ان قیدوں کو اسرائیل اور غرب اردن اور غزہ کے درمیان واقعہ چوکیوں پر رہا کیا گیا۔ اسرائیل جیلوں میں قید ان فلسطنیوں کی رہائی کا معاہدہ فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیل وزیر اعظم ایریئل شرون کے درمیان اس ماہ کے شروع میں شرم الشیخ میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا تھا۔ فلسطین اسرائیل سے مطالبہ کررہا ہے کہ اس کے سات ہزار پانچ سو قیدیوں کو رہا کردیا جائے۔ اسرائیل نے مزید چار سو قیدیوں کی رہائی کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماوں نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ چار سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ فلسطینیوں کی رہائی سے ایک دن قبل اسرائیل کابینہ نے غزہ سے اسرائیلی فوجوں کے انخلاء کے فیصلے کی منظوری دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||