خیر سگالی کے طور پر لاشیں واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج پندرہ فلسطینی عسکریت پسندوں کی لاشیں فلسطینی حکام کے حوالے کررہی ہے تاکہ انہیں غزہ میں دفنایا جاسکے۔ یہ اقدام اسرائیل خیر سگالی کے طور پر کررہا ہے۔ گزشتہ دوسال کے دوران اسرائیلی فوج نے اپنی فوجی چیک پوسٹوں پر کئی فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان پندرہ افراد کی لاشیں اسرائیل نے کیوں اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں کیونکہ ماضی میں ایسے واقعات کے بعد ہلاک شدگان کے باقیات واپس کیے جاتے رہے ہیں۔ ادھر غرب اردن میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے جو ان کے بقول ایک اسرائیلی فوجی کو چاقو کے وار سے ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ یہ واقعات ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ مشرق وسطٰی کا تنازع اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے کیونکہ اب اسرائیل امن کے بارے میں ’ایک مختلف زبان‘ استعمال کررہا ہے۔ محمود عباس نے کہا ’جب اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ شرم الشیخ میں کیے گئے میرے معاہدوں پر عمل کریں گے اور جب حماس اور جہاد تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ فائر بندی پر عمل کریں گے تو مجھے یقین آگیا ہے کہ ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے‘۔ یہ بیان انہوں نے امریکی روزنامے ’دی نیویارک ٹائمز‘ کو ایک انٹرویو کے دوران جاری کیا۔ ایک علیحدہ پیش رفت میں اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی 500 فلسطینی قیدیوں کو رہا کردے گا اور یہ کہ وہ غرب اردن اور جیریکو سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی تیاری میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||