فلسطینی سیکورٹی کے کمانڈر برطرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما محمود عباس نے شدت پسندوں کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر فلسطینی کی سیکورٹی فورسز کے کمانڈر کو برطرف کردیا ہے۔ جنرل عبدالرزاق مجیدی اور نیشنل پولیس چیف سائب العاجز کے ساتھ کئی دیگر سینئیر فلسطینی اہلکاروں کو بھی ان کے عہدوں سے برطرف کردیا گیا ہے۔ یہ اقدام حماس کی طرف سے اسُ مارٹر حملے کے بعد کئے گئے ہیں جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کے جواب میں کیا گیا تھا نہ کہ جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے طور پر۔ مسٹر عباس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ افسران کی برطرفیاں اپنی ڈیوٹی سے غفلت کرنے کی سزا کے طور پر کی گئی ہیں۔ مسٹر عباس نے فلسطینی سیکورٹی حکام کو سخت احکامات جاری کئے تھے کہ جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لئے شدت پسندوں کی طرف سے ایسے حملوں کو روکا جائے۔ فلسطینی کابینہ کے ایک رکن حسن عبدالیبدے کے مطابق مسٹر عباس جمعے کے روز غزہ جائیں گے جہاں وہ شدت پسندوں پر یہ واضح کردیں گے کہ وہ مزید ایسی کارروائیاں برداشت نہیں کریں گے۔ اس سے پہلےفلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں ہونے والے سکیورٹی مذاکرات کو اس حملے کے بعد ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ اسرائیل کا کہنا تھا کہ یہ مذکرات ہونا طے ہی نہیں تھا۔ یہ مذاکرات اسرائیل اور فلسطینی رہنماوں کے درمیان منگل کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کو مستحکم کرنے کے لیے کئے جانے والے تھے۔ فلسطینیوں کی شدت پسند تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل وزیر اعظم ایریئل شیرون اور فلسطینی رہنما محمود عباس کے درمیان کسی معاہدے کی پاسداری کرنے کی پابند نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||