BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 February, 2005, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرقِ وسطیٰ: جنگ بندی ہوگی؟
مصر میں فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں نے جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کہ صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان تمام اختلافات ختم کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

اس معاہدے کا باقاعدہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون اور فلسطینی رہنما محمود عباس کے درمیان مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں ملاقات کے بعد کیا گیا۔

یہ معاہدہ امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس کے مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے کے بعد ہوا ہے۔ اس دورے کے بعد انہوں نے خطے کے لیے جنرل ولیم وارڈ کو امریکہ کا خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کا اعلان کیا اور فلسطین رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرو ن کو واشنگٹن میں مذاکرات کی دعوت دی۔

کیا اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ اب بھی حل ہوسکتا ہے؟ کیا ایریئل شیرون اور محمود عباس کے درمیان ملاقات سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام میں مدد ملے گی؟ کیا دونوں اطراف سے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد ہوگا؟ اس سے عام فلسطینی اور عام اسرائیلی کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ ہمیں اپنے تاثرات لکھ بھیجیں۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

شریف خان مری، بلوچستان:
چہرے بدلنے سے امن نہیں آتا۔ جب تک ایمان داری سے عمل درآمد نہ کیا جائے حالات جوں کے توں رہیں گے۔ فلسطینی اور اسرائیلی عوام مل کر حالات کو سلجھا سکتے ہیں۔ فلسطینی آسانی سے راضی نہیں ہوں گے کہ وہ اپنے ہزاروں افراد کی قربانی دے چکے ہیں۔

ہلال باری، لندن:
مستقل بنیادوں پر کوئی بھی امن ممکن نہیں کیونکہ اسرائیل ایک غیرقانونی ریاست ہے جس نے جبر اور ظلم سے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔ آپ انتظار کریں اور دیکھیں، وقت یہ بات ثابت کردے گا۔

قتل و غارت سے کیا ملا؟
قرآن اور رسول نے صاف الفاظ میں حکم دیا ہے کہ جو امن چاہتا ہے اس سے امن قائم کرو۔ یہودیوں کی اکثریت امن چاہتی ہے اور اس کے بدلے میں وہ کچھ زیادہ نہیں مانگ رہے۔ وہ صرف اپنے بچوں کے لیے پرامن زندگی کے مطلوب ہیں۔
افروز بخت، امریکہ

افروز بخت، امریکہ:
ہمیں اپنے نبی کی تعلیمات کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا۔ قرآن اور رسول نے صاف الفاظ میں حکم دیا ہے کہ جو امن چاہتا ہے اس سے امن قائم کرو۔ یہودیوں کی اکثریت امن چاہتی ہے اور اس کے بدلے میں وہ کچھ زیادہ نہیں مانگ رہے۔ وہ صرف اپنے بچوں کے لیے پرامن زندگی کے مطلوب ہیں۔ انہیں مثبت جواب دیا جانا چاہیے۔ جب کوئی شخص مرتا ہے تو وہ فلسطینی یا یہودی نہیں ہوتا۔ وہ صرف ایک روتی ہوئی ماں کی اولاد ہوتا ہے۔ اس قتل وغارت کو بند کرنے کی ضرورت ہے جس سے ابھی تک کچھ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس سے صرف عرب آمروں اور شاہوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

شکیل عالم، کینیڈا:
فلسطینیوں کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ اس امن منصوبے کو مان لیں۔ اگرچہ یہ دباؤ کے تحت ہے لیکن موجود بدترین صورتِ حال سے نکلنے کا واحد طریقہ ہے۔ موجودہ فلسطینی قیادت اور مسلمان برادری اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنی شرائط منوا سکیں۔ جب وہ ایسی پومیشن میں ہوں گے تو پھر سے بات شروع کی جاسکتی ہے۔

فیصل جاوید، کراچی:
یہ امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندی ہے کہ عارضی طور پر امن قائم کردیا جائے اور پھر اس امن کی بنیاد پر پروپیگنڈا کیا جائے کہ چونکہ اب امن قائم ہوگیا ہے، اس لیے اب مسلمان جہاد چھوڑ دیں اور جہادی تنظیموں کے خلاف مسلمانوں کو گمراہ کیا جاسکے۔ لیکن قرآن میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک اللہ کی راہ میں جہاد کرتی کرتی رہے گی۔

عمران بنگش، پاکستان:
شکر ہے کہ یہ ٹینک اور پتھر کا کھیل ختم ہوگا۔ اس جنگ بندی کے معاہدے کے لیے میری نیک تمنائیں۔

خدیجہ سراج، کراچی:
فلسطین کا مسئلہ صرف القدس کی آزادی ہی سے حل ہوسکتا ہے اور یہ صرف جہاد سے ممکن ہے اس لیے یہ صرف مداکرات کے نام پر وقت گزارنے کی کوشش ہے۔

محمد فدا، کینیڈا:
کون سا امن؟۔۔۔کیا یہ کبھی مشرقِ وسطیٰ میں آیا ہے۔ اوسلو پراسیس نے بھی تو امیدیں پیدا کی تھیں، پھر کیا ہوا۔ عربوں کو امن کا نہیں پتہ، آپ قانون نافذ کرنے والوں ان اداروں سے مہربانی کی توقع کیسے کرسکتے ہیں جن کو آپ پتھر مارتے ہوں؟

خرم احمد، ایریزونا:
جب تک کرہِ ارض پر اسرائیل موجود ہے، امن نہیں ہوسکتا۔ یہ صرف ایران اور شام پر حملوں کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔

آصف ججہ، لائبیریا:
مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن ناگزیر ہے کیوں کہ اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ادھی صدی سے زیادہ پرانے اس تنازعے میں ناانصافی اور جارحیت، قتل وغارت، خود کش حملوں اور دہشت گردی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا جاسکا۔ اس تنازعے سے اور اسرائیل کی جارحیت سے انتہا پسند گروہوں نے جنم لیا ہے اور دنیا کو جہنم میں بدل دیا ہے۔ یہ واحد راستہ ہے ککہ اسرائیلی اور فلسطینی دونوں پرامن طور پر رہ سکیں۔

اے حلیم:
جی ہاں اگر اسرائیلی ادھر واپس چلے جائیں جہاں سے آئے ہیں۔

امجد چوہدری، جاپان:
جب تک فلسطینیوں کو مکمل انصاف نہیں مل جاتا، اس طرح کے معاہدے قابلِ عمل نہیں ہوسکتے۔ اسرائیل یہ سب کچھ صرف دکھاوے کے لیے کر رہا ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
امریکی صدر ہوں یا وزیرِ خارجہ، ان سب کا قبلہ اسرائیل کی طرف ہی ہوتا ہے اور سب سے پہلے یہ امن کی بات کرتے ہیں۔ آپ خود ہی سوچیں کہ کیا بندوق کی نال سے امن قائم ہوسکتا ہے۔

خالد محمود سجرہ، کراچی:
قرآن کا فیصلہ ہے کہ یہودونصاریٰ مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔ اگر امن ہی قائم کرنا تھا تو اسرائیل بنانے کا مقصد کیا تھا۔

بصورتِ دیگر ۔۔۔
 اسرائیل کو کم از کم انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں اردن سے چھینا ہوا بیت المقدس کا علاقہ فلسطینیوں کے حوالے کرنا پڑے گا۔ اسی صورت میں ہی فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن سے رہنے پر تیار ہوں گے۔
کفیل احمد صدیقی، لاہور

کفیل احمد صدیقی، لاہور:
جنگ بندی اصل مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ باہمی اعتماد اور مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی حقیقی خواہش کا ہے۔ جب تک اسرائیل اپنی ضد پر قائم رہے گا اور فلسطینیوں کو ان کا جائز حق اور علاقے نہیں دے گا اور بیت المقدس کو آزاد فلسطینی ریاست کے حوالے نہیں کرے گا، اس وقت تک امن کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔ اسرایئل کو کم از کم انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں اردن سے چھینا ہوا بیت المقدس کا علاقہ فلسطینیوں کے حوالے کرنا پڑے گا۔ اسی صورت میں ہی فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن سے رہنے پر تیار ہوں گے۔ بصورت دیگر موجود جنگ بندی، چند دن، چند ہفتے یا چند ماہ کی مہمان ہو گی۔

عاطف مرزا، میلبورن:
یہ بڑا اچھا موقعہ ہے مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کے لیے۔ سب سے ضروری چیز اس وقت مسلمانوں کی سلامتی ہے۔ اس وقت تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی مدد ضرور کریں ورنہ مسلمان مخالف پروپیگنڈا اور زور پکڑ لے گا اور مسلمانوں کی شہرت بگڑتی جائے گی۔ ہمیں امریکہ دشمنی کی بجائے اپنی توجہ مسلمانوں کی ترقی اور تعمیر پر مرکوز کرنی ہوگی۔

محمد زاہد خان، لاہور:
ہم اسرائیل کو ایک دفعہ نہیں ایک سو ایک دفعہ آزما چکے ہیں اور اس نے ہر دفعہ دھوکہ دیا ہے۔ اس بار بھی یہ اس کی چال ہے تاکہ خودکش حملوں کو کم کیا جاسکے۔ امن تو دور کی بات ہے آپ ہفتے بھر بعد دیکھیے گا کہ اسرائیل کرتا کیا ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
یاسر عرفات تو اپنے دل میں ہی یہ آرزو لے کر چلے گئے۔ کئی بار اس طرح کے معاہدے ہوئےمگر کسی پر عمل نہ ہوسکا۔ اسرائیلی کبھی بھی اپنی بات پر قائم نہیں رہیں گے، یہ وقت کا ضیاع ہے۔

عفاف اظہر، ٹورنٹو:
جی یہ ایک اور ڈرامہ شروع ہوگیا ہے۔ اگر جنگ بندی کا اتنا ہی جذبہ تھا تو عراق کی مرتبہ آنکھیں کیوں بند تھیں اور یہ جو آدھی دنیا اسرائیل اور امریکہ کے ہاتھوں پریشان ہورہی ہے وہاں جنگ بندی کیوں نہیں کی جاتی۔ اللہ کرے کہ یہ ہوجائے لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ ایک اور ڈرامہ ہے لوگوں کو مصروف رکھنے کا۔

یار خان بلوچ، بلوچستان:
فلسطین کے لوگوں کو امن کے ساتھ ساتھ سکھ کا سانس بھی چاہیے۔ وہ آزادی سے جینا چاہتے ہیں لیکن اسرائیل کو آزادی کا لفظ بہت برا لگتا ہے اس لیے امن مشکل ہے۔

حیات خان مری بلوچ، بلوچستان:
امریکہ نے تمام عالمِ اسلام پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ وہ جب چاہے مسلمانوں کو مار سکتا ہے اور اپنی فوج کسی بھی ملک میں بھیج سکتا ہے۔ امن کی توقع امریکہ سے نہیں کرنی چاہیے جس کے آگے مسلمان ممالک بے بس ہیں۔

تربیلی، امریکہ:
جی ہاں یہ ممکن ہے اگر اسرائیل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرے یا اقوام متحدہ اپنے قوانین کا اسرائیل پر نفاذ کرسکے تو۔۔۔۔

منظور احمد، اسلام آباد:
یہ اچھی بات ہے کہ دونوں اطراف جنگ بندی پر متفق ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اسرائیل اس میں مخلص نہیں ہے۔ اگر وہ مخلص ہے تو پھر اس سے اچھی بات کوئی نہیں۔

جاوید احمد ڈوگر، قصور:
اگر اسرائیل نے وعدہ خلافی نہ کی تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور دونوں ممالک کے لوگ پرامن زندگی گزار سکیں گے۔ تاہم اسرائیل کبھی بھی وعدے پورے نہیں کرے گا کیونکہ وہ پہلے ہی غلط طور پر فلسطین پر قابض ہے اور اسے امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔

محمد علی، کینیڈا:
اللہ کرے جنگ بندی ہوجائے۔

شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات:
امید پر دنیا قائم ہے۔ خدا کرے کہ ایسا ہوجائے، کہیں سے تو کوئی خوش کن خبر آئے۔ محمود عباس کی اس پیش رفت پر تھوڑی سی امید پیدا تو ہوئی ہے کہ اب فلسطین میں امن و آمان کے لیے کوئی مثبت صورتِ حال سامنے آ ہی جائے لیکن یہ سوچ کر دل ڈوب سا جاتا ہے کہ اگر ابھی بھی کوئی اچھی راہ نظر نہ آئی تو کیا ہوگا؟ لیکن کنڈولیزا رائس کے آنے سے کچھ امید پیدا تو ہوئی ہے۔ لگتا ہے کہ اب بڑی طاقتیں بھی فلسطین میں امن چاہتی ہیں۔

قیادت بدلنا ضروری ہے
 اسرائیل کی قیادت تو بدلتی رہی ہے لیکن فلسطینی قیادت پر ایک جمود طاری تھا۔ زمانے کے بدلتے ہوئے حالات میں قیادت کو بھی بدلنا چاہیے۔
شیر یار خان، سنگا پور

شیر یار خان، سنگا پور:
اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ حل ہونے کے آثار اس لیے بھی پیدا ہورہے ہیں کہ فلسطین کو اب ایک نئی قیادت مل چکی ہے۔ اسرائیل کی قیادت تو بدلتی رہی ہے لیکن فلسطینی قیادت پر ایک جمود طاری تھا۔ زمانے کے بدلتے ہوئے حالات میں قیادت کو بھی بدلنا چاہیے۔ اب فلسطینیوں کو نئی سوچ رکھنے والے رہنما مل گئے ہیں اب اس تبدیلی کے بعد اسرائیل کو بھی اپنی جامد پالیسیوں کو بدلنا ہوگا کیونکہ اب وہ دنیا کو مزید دھوکہ دینے کے قابل بھی نہیں رہا۔ پھر مشرقِ وسطیٰ میں امن کا انحصار صرف اسرائیل اور فلسطینیوں پر نہیں اور نہ ہی وعدوں پر ہے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

محمد امین، قصور:
خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن یہ آج اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے جتنا کہ تیس برس پہلے تھا۔

محمد بخش ابر، جوہی:
امن تو دنیا کا ہر انسان چاہتا ہے مگر مشرقِ وسطیٰ میں امن تب ہی قائم ہوگا جب امریکہ اسرائیل کی مدد بند کرے گا۔

شرجیل امتیاز، برطانیہ:
قرآن میں صاف الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ یہودی اور عیسائی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔ ہم سب مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں۔ باقی رہی بات اسرائیل اور فلسطین کی تو وہاں کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔

بشر الاسدآپ کی رائے
اسرائیل اور شام دوست بن سکتے ہیں؟
پاکستان اسرائیل تعلقات: آپ کی رائے پاک اسرائیل تعلقات
اسرائیل پاکستان دوستی: آپ کی رائے
اسرائیلی حفاظتی باڑھ: آپ کی رائےحفاظت یا قبضہ؟
اسرائیلی حفاظتی باڑھ کی تعمیر: آپ کی رائے
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیآپ کی رائے
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد