امریکہ:امن کے قیام میں مدد کا عزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِخارجہ کونڈالیزا رائس مشرقِ وسطیٰ کے سات روزہ دورے کے سلسلے میں اسرائیل پہنچ رہی ہیں۔ ان کے دورہ اسرائیل کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان قیامِ امن کی کوششوں میں مزید تیزی لانا ہے۔ کونڈالیزا رائس پیر کو مغربی کنارے کے علاقے میں فلسطینی رہنما محمود عباس سے ملاقات کرنے سے پہلے اسرائیلی وزیرِاعظم ایرئیل شیرون سے ملاقات کریں گی۔ رائس کے دورے سے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں میں اضافے کی امید کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں منگل کو مصرمیں محمود عباس اور ایرئیل شیرون بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ گزشتہ چار برس کے دوران فلسطین اور اسرائیل کے مابین ہونے والا پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہو گا۔ نومبر میں یاسر عرفات کی وفات اور گزشتہ ماہ محمود عباس کے انتخاب سے علاقے کی سیاسی صورتحال میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ امریکہ نےفلسطینی انتخابات کی تعریف کی تھی اور اسے جمہوریت کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا تھا۔اس کے علاوہ امریکہ محمود عباس کی شدت پسندوں یروشلم سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ کونڈالیزا رائس کا دورہ امن کے قیام کا ایک بہترین موقع ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حالات میں بہتری آئی ہے لیکن ابھی بھی فریقین کے درمیان بداعتمادی کی فضا موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے دورے سے قبل رائس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ امن کوششوں میں مدد کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک کو اس سلسلے میں کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ دونوں فریق اگر معاملہ آپس میں نمٹا لیں تو یہ بہترین بات ہے تاہم جب ہماری موجودگی کی ضرورت ہو گی تو ہم وہاں موجود ہوں گے۔‘ امریکی صدر بش نے بھی اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی تھی اور اس کے لیے 350 ملین ڈالر کے فنڈ کا اعلان کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||