فلسطینیوں کے لیے اسرائیلی پالیسی نرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے چار برس پہلے جن سولہ فلسطینیوں کو گرفتار کیا تھا انہیں جمعہ کو غربِ اردن واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا ہے کہ بیت اللحم سے یورپ بھیجے جانے والے بیس فلسطینیوں کو بھی اس وقت واپس آنے دیا جائے گا جب اسرائیل شہر کا کنٹرول منتقل کرے گا۔ اس سے پہلے اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ فلسطینی خود کش بمباروں کے گھروں کو مسمار کرنے کی پالیسی ختم کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیل اور فلسطین کے درمیان عارضی جنگ بندی کے دس روز بعد دیکھنے میں آئی ہے۔ اسرائیل سے اس بات کی بھی توقع ہے کہ وہ پانچ سو فلسطینیوں کو جلد رہا کر دے گا۔ ادھر فلسطینی حکام اسرائیل پر شدت پسندوں کے حملوں کو روکنےکی کوشش کر رہے ہیں۔ جمعرات کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ کی پٹی میں ایک بارہ سالہ فلسطینی لڑکے کی ہلاکت کی خبر بھی غلط تھی کیونکہ بعد میں کیے گئے اعلان کے مطابق لڑکے کی ہلاکت سائیکل سے گرنے کے سبب سر میں چوٹ آنے کے باعث واقع ہوئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||