غرب اردن: یہودی آبادی کی توسیع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ نے متنبہ کیا ہے کہ غرب اردن میں یہودی آبدای کی توسیع سے امن کا عمل تہس نہس ہو جائے گا۔ فلسطینی انتظامیہ کا یہ ردِ عمل اسرائیل کی اس متنازعہ تجویز کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ غرب اردن کی ایک بڑی یہودی بستی میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ اسرائیل کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک طرف غزہ کی پٹی پر یہودی آبدیاں ختم کرنے اور اسرائیلی فوجوں کی واپسی کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کئی دنوں کے مذاکرات کے بعد سوموار ہی کو اس رضامندی کا اظہار کیا ہے کہ غرب اردن کے شہر تلکرم کا کنٹرول فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ عرب اردن سے کچھ یہودی آبادیاں ختم کر دی جائیں گی۔ یہودی آبدیوں کا مسئلہ صرف اسرائیل اور فلسطینی انتظامیہ کے درمیان ہی ایک بڑی رکاوٹ بلکہ مبصرین اسے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بھی ایک رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کا ’قدیم عظیم اسرائیل‘ کا خواب تو شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا ہے لیکن ’عظیم یروشلم‘ کے حصول پر وہ اب بھی مصر ہے۔ اسی کے تحت اسرائیل مالے ادومن سے مشرقی یروشلم تک یہودیوں کو بسانے کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس علاقے ساڑھے تین ہزار مزید گھر تعمیر کرنے کا اعلان بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ اسرائیلی فوجی کمانڈر جنرل موفاظ نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی کنٹرول والے علاقوں کے انتظامات پر کڑی نظر رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ فلسطینی غرب اردن کے علاقوں میں اپنی ذمہ داریوں سے متعلق وعدوں کو پورا کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||