 |  اسرائیل شام کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے |
اسرائیل کے شہر تل ابیب کے نائٹ کلب میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے کی وجہ سے اسرائیل۔فلسطینی تنازعہ کے حل کی جانب ہونے والی پیش رفت پر نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم شیرون نے دھمکی دی ہے کہ اگر شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو قیام امن کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ شدت پسند تنظیم اسلامی جہاد کے فلسطینی دفتر نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ شام میں اسلامی جہاد کے دفتر سے ایک وڈیو کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیردفاع نے اس حملے کے لئے شام کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ وہائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں صدر جارج بش نے اس کی پوری شدت سے مذمت کی ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی پولیس نے علیحدہ علیحدہ کارروائیوں میں حملے کے سلسلے میں سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے حملے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی بات کی ہے۔ سکیورٹی کے حالات کے مدنظر فلسطینی کو ریاست کا درجہ دینے کے سلسلے میں لندن میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطینی وزیراعظم احمد قریعہ شریک نہیں ہوسکیں گے۔ آپ کے خیالات میں تل ابیب کے نائٹ کلب میں ہونے والے حملے کا مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں پر کیا اثر پڑے گا؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔
محمد علی، کراچی: اس بم حملے میں اسرائیل خود ملوث نظر آتا ہے کیونکہ مسلمان ممالک قیامِ امن کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا نہیں کرتے۔ عبدالغفور، ٹورنٹو: خود کش حملے سے مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کی طرف دنیا کی توجہ تو دلائی جا سکتی ہے مگر یہ قتل و غارت کسی طرح سے بھی اس مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ آج جب کہ پوری دنیا مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کے حل کی خواہاں ہے تو اس وقت طرفین کو مذاکرات پر زور دینا چاہیے۔ گل انقلابی، دادو: اسرائیل اور پاکستان دونوں جنوبی ایشیاء اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے پٹھو ہیں۔ یہ دونوں ملک مذہب کے نام پر بنے تھے اور ان کے وجود میں آنے سے اب تک یہ سی آئی اے کی سرگرمیوں کا گڑھ رہے ہیں جو ان خطوں میں قوموں اور عوام کی جائز تحریکوں کو کچلنے کی ذمہ دار رہی ہے۔ جب تک یہ دونوں ممالک اپنی موجودہ شکل میں قائم ہیں، ان خطوں میں کبھی امن قائم نہیں ہوگا۔
 | سانپ بھی مرجائے ۔۔۔۔۔  حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل خود فلسطین کے مسئلے کا حل نہیں چاہتا اور اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اس نے خود یہ حملہ کرایا ہے  نوید نقوی، کراچی |
محمد آصف اچک زئی، چمن: آپ کس امن کی بات کر رہے ہیں، کیا شیرون کی پسند کو آپ امن کہنا چاہتے ہیں۔ یہ سب ایک کھیل کا حصہ ہے، صرف اور صرف ان بے گناہ مسلمانوں کو سزا دی جا رہی ہے جو آج تک یہ جان نہیں پائے کہ ان کا ماضی کیا تھا اور مستقبل کیا؟راشد علی، ٹورنٹو: اسرائیل کا وجود اسلامی دنیا کے سینے میں خنجر کی طرح ہے۔ اسرائیلیوں کو امریکہ اور ’مہذب کہلانے والی دنیا‘ کی حمایت حاصل ہے۔ حقیقت میں معربی دنیا اخلاقی تباہی کے دہانے پر ہے۔ گنج بخش یوسف زئی، مردان: بش، شیرون اور مشرف کی تکون ان خطوں میں لوگوں کی خواہشات کو ناکام کرنے کی پوری کوشش میں مصروف ہے۔ بدی کا اصل محور امریکہ اسرائیل، اور پاکستان ہیں۔ یاسر، میرپور: مومن ہو تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی شاہد جاوید، امریکہ: جب کچھ دن پہلے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی مارے گئے تھے تو اس وقت شیرون کو کچھ یاد نہیں آیا کہ اس سے امن کی کوششوں پر برا اثر پڑ سکتا ہے؟ وقار اعوان، کراچی: ہر جگہ دونوں طرف کے سبھی لوگ ایک جیسے خیالات نہیں رکھتے۔ اگر امن ہوجائے تو فلسطین اور اسرائیل کے کئی لوگوں کا روزگار بند ہوجائے گا۔ جب تک یہ مسئلہ جاری ہے ان کی طوطی بولتی رہے گی۔ اسی لیے امن قایم ہونا مشکل لگتا ہے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: جب تک اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، مشرقِ وسطیٰ میں یہ سب کچھ ہوتا رہے گا۔ آخر کیا وجوہات ہیں جو اقوامِ متحدہ کو اس مسئلے کے حل سے روک رہی ہیں؟ دنیا میں امن کے لیے ہمیں برداشت سے کام لینا ہوگا۔ جبل بلوچ، خضدار: میرے خیال میں سی آئی اے، آئی ایس آئی اور موساد جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی میں جنگ اور دہشت گردی کے لئے ذمہ دار ہیں۔ لگتا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ان علاقوں کی قومیں کبھی بھی صحیح آزادی نہ حاصل کرسکیں۔ بش، مشرف اور شیرون ایک ہی سکے کے چہرے ہیں۔  | قتل افسوسناک مگر۔۔۔  پرامن شہریوں کا قتل افسوس ناک ہے، لیکن صرف پانچ اسرائیلیوں کے مرنے کا امریکہ کو اتنا صدمہ ہوتا ہے لیکن وہیں فلسطینی، عراق اور افغانستان میں ہزاروں لوگ قتل ہوتے ہیں اس کا امریکہ کو کوئی افسوس نہیں ہوتا۔  عمران احمد کاظمی، نئی دہلی |
عمران احمد کاظمی، نئی دہلی: پرامن شہریوں کا قتل افسوس ناک ہے، لیکن صرف پانچ اسرائیلیوں کے مرنے کا امریکہ کو اتنا صدمہ ہوتا ہے لیکن وہیں فلسطینی، عراق اور افغانستان میں ہزاروں لوگ قتل ہوتے ہیں اس کا امریکہ کو کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ میں کہوں گا کہ ان سب خرابی کا بنیادی سبب امریکہ ہے۔ اس کی تازہ مثال عراق میں سو لوگوں کا مرنا اور لگ بھگ اتنے ہی لوگوں کا زخمی ہونا ہے۔ امریکہ کو اس کی ایک نہ ایک دن قیمت چکانی پڑے گا۔ محمد حسن، چترال: میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی لڑائی کے منفی پہلوؤں کو نظرانداز کرکے مذاکرات کریں۔ انہیں امن اور ترقی کی جانب پیش قدمی کرنی ہے۔ اسرائیلیوں کو بھی چاہئے کہ اس طرح چند واقعات کو نظر انداز کریں، فلسطینی بھی ایسا کریں۔ اگر امن کی خواہش ہے تو تشدد اور دھمکیوں کی جگہ اعتدال پسندی کو ترجیح دینی ہوگی۔ اشعر سلمان، پاکستان: جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کی یہودی بستیوں اور متنازعہ دیوار کو ختم کرنے کے لئے کتنی مخالفت ہورہی ہے۔۔۔۔ جنم سندھی، ٹھٹہ: یہ آئی ایس آئی کی ایک اور کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوشش کو ناکام بنادیا جائے۔۔۔۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد سندھ: فلسطینی تنظیمیں وہ کررہی ہیں جس کی ان کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ فلسطینین اتھارٹی کے پاس صرف امریکی اور اسرائیلی حمایت حاصل ہے۔۔۔۔ محمد سعید شیخ، بحرین: ہر خود کش دھماکہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کوئی بھی فلسطینی اسرائیل کے کھوکھلے امن دعووں سے مطمئن نہیں ہے اور سب یہ جانتے ہیں کہ اسرائیل کبھی بھی امن پسند نہیں رہا اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔ وہ اس قسم کے حادثات کو بہانہ بناکر صرف مسلمانوں پر حملے کرنے کا جواز تلاش کرتا ہے۔ قیام امن کی کوشش صرف ایک سبز باغ ہے جو اسرائیل دنیا کو دکھاکر اس کی آڑ میں اپنا ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے ہے۔ نغمانہ نیازی، اسلام آباد: مسٹر بش اور شیرون کی چالاکیاں اور مظلوم فلسطینیوں اور دوسرے مسلم عوام کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ جب تک پٹھو مسلمان حکمران ہیں۔۔۔۔ شاہد احمد، امریکہ: اسرائیل امن کے عمل کو روکنے کے لئے بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔۔۔۔ نوید نقوی، کراچی: اثر تو تب پڑے گا جب امن کوشش ہورہی ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل خود فلسطین کے مسئلے کا حل نہیں چاہتا اور اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اس نے خود یہ حملہ کرایا ہے تاکہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔۔۔۔ عبدالمجید، اسلام آباد: وہ کون سا دن ہے جب فلسطینی نہیں مرتے۔۔۔۔اب تو چار کے مرنے پر کوئی خبر بھی نہیں بنتی۔ مگر جب کوئی اس طرح کا دھماکہ ہوتا ہے تو پھر امن کے خلاف ہونے والی سازشوں پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔ نہ کبھی مڈل ایسٹ میں امن تھا اور نہ ہی مستقبل قریب میں ہونے کا امکان ہے جب تک اسرائیل اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا۔۔۔۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: دونوں طرف کی ہلاکتوں میں نقصان عام اور بےقصور عوام کا ہوتا ہے، خون ان کا ناحق بہتا ہے جن کا قصور کوئی نہیں ہوتا۔ حکومت کرنے والے اور حکومتیں صرف گھر پھونک تماشہ دیکھتے ہیں۔ امن کی کوشش کا کہنے والوں کو ایک آخری موقع دے کر دیکھنے میں کیا حرج ہے؟ کوئی نہیں، اور یہ اور اس طرح کے حملے بش اور ان کی حکومت کو بہت کلیر نظر آتے ہیں۔۔۔۔ اعجاز ملغنی، لاہور: قیام امن کے لئے اسرائیل کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہا، فلسطین کو خود مختاری دی جائے اور امن قائم ہوجائے گا۔ فضل سبحان جان، ابوظہبی: کوئی بھی مہذب انسان بےگناہ لوگوں کو مارنے کو جائز نہیں سمجھتا لیکن دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ اسرائیل امریکہ کی۔۔۔ (واضح نہیں) سے ہر وہ کام کرتا ہے جسے وہ اپنے لئے جائز سمجھتا ہے، خواہ پوری دنیا اس کو ناجائز سمجھے۔ دونوں طرف سے جب تک اعتدال پسند قیادت سامنے نہیں آتی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یوں ہی یہ خون خرابہ چلتا رہے گا۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: یہ بہت برا ہے، جب امن کی کوشش ہورہی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ ختم نہیں ہوسکتا۔۔۔کچھ اسرئیلی اپنا وعدہ پورا نہیں کرسکتے۔ مصطفیٰ اجتہادی، ریاض: میرا خیال ہے کہ یہ دھماکہ کرکے وہ اپنا گول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔۔۔۔ صمدانی صدیقی، لاہور: فلسطینیوں کو اس کنسپائریسی کو سمجھنا چاہئے۔ امن کا ڈرامہ کرکے اسرائیل دنیا کو دھوکہ دے سکتا ہے مگر فلسطینیوں کو نہیں۔ اسرائیل کو ڈنڈے کی زبان ہی سمجھ آتی ہے۔ محمد اشفاق مسلمان، لاہور: بڑی مشکل سے امن کی بات شروع ہوئی ہے۔ یہ دہشت گرد حملہ ہے تاکہ امن کی کوششوں کو ناکام کیا جائے۔ ایم علی، کینیڈا: اب بس کردینی چاہئے۔ تربیلی، امریکہ: یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک قبضہ ختم نہیں ہوتا۔ افغانستان، فلسطین اور عراق میں قبضہ غلط ہے۔ اگر امریکہ اور اقوام متحدہ قبضہ نہیں ختم کرتے تو تحریک مزاحمت بھی ختم نہیں ہوگی۔۔۔۔۔ عبدالصمد، اوسلو: اس طرح کے بلاسٹ ہوتے رہیں گے جب تک فلسطینیوں کی خودمختار ریاست قائم نہیں ہوجاتی۔ علاوہ ازیں یہ سب شام کو گھیرنے کا طریقہ۔۔۔۔رفیق حراری کو قتل، تل ابیب کا دھماکہ۔۔۔۔ مرزا اظہر بیگ، جاپان: میرے خیال سے فلسطینیوں کو صبر سے کام لینا چاہئے اور قیام امن کے لئے اسرائیل کو ایک آخری موقع اور دینا چاہئے۔ امتیاز مغل، اسلام آباد: میرے خیال میں دونوں فریق کو چاہئے کہ شہریوں کا قتل بند کریں۔۔۔ مزمل شاہ، اردن: سالہا سال سے جاری مزاحمت نے فلسطینیوں کی ساری نفسیات ہی بدل دی ہے۔ نسلوں سے چلی آئی یہ ذہنیت کیا پلک جھپکتے بدل جائے گی؟ حالات نے ان بےچاروں کو خود نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ منظور بنیان، اسلام آباد: یہ دونوں کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ کیوں کہ امن قائم کرنے کے لئے جنگ ایک حل نہیں ہے۔ دونوں کو صبر ظاہر کرنا چاہئے اور شہریوں کا قتل بند کرنا چاہئے۔ محمد بخش بابر، حیدرآباد سندھ: پتہ نہیں وہ دن کب آئے گا جب مشرق وسطیٰ میں مکمل امن اور سکون ہوگا، کسی بے گناہ کا خون نہیں بہے گا، کہ بش یہ مجھ سمیت کروڑوں امن پسند لوگوں کی یہ خواہش پوری کرے گا۔ عالیہ وسوندرا، جوہی: یہ پہلی بم دھماکہ ہے جس کی ابھی تک کسی تنظیم نے ذمہ داری نہیں قبول کی، ہوسکتا ہے یہ بم دھماکہ تازہ امن کوششوں کو ناکام بنانے کا یہودی انتہاپسندوں کی سازش ہو۔۔۔ افشان بخش، حیدرآباد سندھ: دنیا میں سرد جنگ کے بعد ہتھیار بند جد و جہد آزادی کے طریقوں کو دہشت گرد کارروائیوں کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر فلسطینیوں کو ایک بار پرامن تحریک شروع کرنی چاہئے اور اسرائیل کو بھی چاہئے کہ وہ قابض علاقوں کا کنٹرول فلسطینی انتظامیہ کو دیں۔ اس کے سوا مشرق وسطی میں امن ممکن نہیں۔ ہلال باری، کراچی: جناب، فلسطینیوں کو اتنی آسانی سے حماس اور فلسطینی رہنماؤں، شیخ یاسین اور عبدالعزیز رنتیسی کو معاف نہیں کرنا چاہئے۔ یہ امن کا دکھاوا اسرائیل کی اپنے آپ کو تسلیم کروانے تک کی ایک ایپیسوڈ ہے، جیسے پاکستان اور پوری دنیا اس غیرقانونی ریاست کو قبول کرلیں گے۔ یہ پھر ٹیرورزم پر اتر آےگا، بدلہ لینا انسان کا لیگل رائٹ ہے۔ |