’تل ایبب دھماکہ شام نے کرایا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے شام پر الزام لگایا ہے کہ تل ایبب میں ہونے والا خود کش حملہ اس نے کرایا ہے۔ شام نے اسرائیلی الزام کی تردید کی ہے۔ اس حملے میں کم از کم چار اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع شاہول موفظ نے شام پر الزام لگایا کہ تل ابیب کے ایک نائٹ کلب پر ہونے والے ایک خود کش حملہ اس نے کرایا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے فلسطینی گروہ اسلامک جہاد جس کے دفاتر شام میں ہیں، کو بھی مورد الزام ٹہرایا۔ فلسطین عسکریت پسند گروہ اسلامک جہاد نے دہماکے کے بارے میں متضاد بیانات دیے ہیں۔ اسلامک جہاد کے شام اور غرب اردن میں ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ دہماکہ اس نے کرایا ہے جبکہ غزہ میں اسلامک جہاد کی اصل قیادت نے اس کی تردید کی ہے۔ اسرائیل نےدھماکے کے الزام میں پانچ فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ فلسطینی پولیس نے بھی دو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ گرفتار ہونے والے دو افراد کا تعلق مغربی کنارے کے علاقے تلکرم کے نزدیکی گاؤں سے ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں افراد حملہ آور کے بھائی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تلکرم کے شمال میں واقع گاؤں دیر الغسن پر چھاپہ مارا اور وہاں کرفیو لگا دیا۔ جس کے بعد تلاشی کے دوران اسرائیلی فوج نے مقامی پیش امام اور اکیس سالہ مشتبہ حملہ آور عبداللہ بدران کے بھائیوں کو گرفتار کر لیا۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس خود کش حملے کو امن کوششوں کے خلاف تخریب کاری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف چپ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا اس حملے کی تیاریوں کا سراغ لگایا جائے گا اور جو لوگ اس میں ملوث ہوں گے ان کو سزا دی جائے گا۔ اسرائیلی وزیرِاعظم ایرئیل شیرون کے ایک مشیر رنان گسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ فلسطینی انتظامیہ کو دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے اور غیر قانونی ہتھیاروں کی برآمدگی کے سلسلے میں ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے‘۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے بھی فلسطینی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اس دھماکے کے مرتکب افراد کی تلاش کے لیے واضح اقدامات کرے۔ اسرائیلی پولیس کے سربراہ ڈیڈ ساؤر کا کہنا ہے کہ یہ خود کش حملہ ’دی سٹیج‘ نامی کلب کے داخلی دروازے پر ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کہ کلب کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا اور کلب کے سامنے کھڑی ہوئی کاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ شبینہ کلب جس میں دھماکہ ہوا ہے، ساحلی علاقے کے اس حصے میں واقع تھا جو بالعموم پُرہجوم رہتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||