فلسطین:عارضی فائربندی سمجھوتہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اعلٰی فلسطینی اہلکار کے مطابق فلسطینی شدت پسند گروپ اسرائیل پر حملے عارضی طور پر روکنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ فلسطینی اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ اب اسرائیل کے رد عمل کے منتظر ہیں۔ یہ سرکاری بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب فلسطینی رہنما محمود عباس غزہ کی پٹی میں شدت پسند گروپوں سے ایک ہفتہ جاری رہنے والے مذاکرات ختم کرنے والے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد فائر بندی کے معاہدے تک پہنچنا تھا۔ عسکریت پسند گروپوں کا اصرار ہے کہ وہ اس وقت تک فائر بندی کا اعلان نہیں کریں گے جب تک اسرائیل کی جانب سے کسی نرمی کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں پر حملے روکے اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کردے۔ محمود عباس کی یہ کوشش بھی ہے کہ حماس سمیت دیگر عسکریت پسند گروپوں کو سیاسی عمل میں شامل کیا جائے۔ محمود عباس منتخب ہونے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ شدت پسندوں کو اسرائیل پر حملے نہ کرنے پر آمادہ کر سکیں وہ اس سلسلے میں حماس، اسلامی جہاد اور دوسرے شدت پسند گروہوں سے مذاکرات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اس پیش رفت کا مثبت جواب دینا چاہیے اور اپنے چھاپوں اور حملوں کی کارروائیاں بند کر دینی چاہیں۔ فلسطینی تنظیموں نے بھی اس دوران ایسے اشارے دیے ہیں جن سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ امن کا وقفہ قائم کرنے پر آمادہ ہیں تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ جنگ بندی پر آمادہ ہیں۔ حماس کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر راکٹ حملوں میں وقفہ محمود عباس کی کوششوں پر ایک مثبت اظہار ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے علاقے میں سکون ہے اور انہیں امید ہے کہ کوئی حقیقی تبدیلی آرہی ہے۔ اس قبل انہوں نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل پر کوئی حملہ کیا گیا تو اسرائیلی فوج بھرپور جوابی حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||