رائس، آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس ایسی خود مختار ریاست ہونی چاہیے جہاں وہ اپنی خواہشات کے مطابق رہ سکیں، بصورت دیگر مشرق وسطٰی میں امن کا قیام ناممکن ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک اجلاس کے دوران کہی۔ رائس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینی علاقے خالی کرکے ایسے حالات پیدا کرنے چاہئیں جن میں ایک نئی فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہوسکے۔ توقع ہے کہ اس ہفتے کونڈولیزا رائس یروشلم اور غرب اردن کا دورہ کریں گی۔ رائس کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب غزہ میں تشدد کی تازہ لہر میں ایک فلسطینی بچی ہلاک ہوگئی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج دس سالہ نورن دیب کو ہلاک کرنے کی تردید کررہی ہے۔ یہ بچی جنوبی غزہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے ایک سکول کے گراؤنڈ میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئی ہے۔ عینی شاہدین اس ہلاکت کی ذمہ داری اسرائیلی فوج پر عائد کررہے ہیں۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا ہے کہ بچی فلسطینیوں کی گولی لگنے سے ہلاک ہوئی ہے جو قریب ہی حاجیوں کی واپسی پر جشن مناتے ہوئے ہوائی فائرنگ کررہے تھے تاہم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہاں ایسا کوئی جشن نہیں منایا جارہا تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گولی لگنے سے فلسطینی بچوں کی ہلاکت کا یہ پانچواں واقعہ ہے۔ گزشتہ سال اسرائیلی فائرنگ سے دو بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ فلسطینی تنظیم حماس نے اس ہلاکت کے جواب میں غزہ کی یہودی بستی پر مارٹر شیلوں سے فائرنگ کی ہے۔ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ ایسی فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہے جسے اسرائیل بھی تسلیم کرتا ہو۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ مستحکم ہو اور فلسطینیوں کو اتنی زمین دی جائے جہاں ایک آزاد ریاست کا نظام احسن طریقے سے چل سکے۔ انہوں نے عرب ریاستوں سے بھی کہا کہ وہ بقول رائس تشدد آمیزی کو ہوا دینا بند کریں۔ اس سے قبل انہوں نے ایک اسرائیلی وفد سے ملاقات کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||