BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 February, 2005, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فلسطینی اتھارٹی کارروائی کرے‘
تل ابیب
یہ خود کش حملہ ’دی سٹیج‘ نامی کلب کے داخلی دروازے پر ہوا
اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون نے فلسطینی حکام کو کہا ہے کہ اگر انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی نہ کی تو امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

تل ایبیب میں خود کش بم دھماکے کے بعد اسرائیلی کابینہ کے ساتھ پہلی ملاقات کے بعد ایرئیل شیرون نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقے میں دہشت گردوں اور ان کے انفراسٹریکچر کو ختم کرنا ضروری ہے۔

اسرائیل نے شام پر الزام لگایا ہے کہ تل ایبب میں ہونے والا خود کش حملہ اس نے کرایا ہے۔ شام نے اسرائیلی الزام کی تردید کی ہے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نے دھماکہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیے کا اعلان کیا ہے۔

اس حملے میں کم از کم چار اسرائیلی ہلاک اور تیس کے لگ بھگ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

صدر بش نے تل ابیب میں جمعہ کو ہونے والے خود کش بم حملے کی پوری شدت سے مذمت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وہائٹ ہاوس فلسطینی رہنماؤں سے رابطے میں ہے اور ان پر زور دے رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ معلوم کریں کہ کون سی تنظیم اس خود کش حملے کی ذمہ دار ہے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع شاؤل موفاز نے کہا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ تل ابیب کے نائٹ کلب پر ہونے والا خود کش حملہ شام نے کرایا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے فلسطینی گروہ اسلامی جہاد کو بھی اس حملے کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔ اس گروہ کے دفاتر شام میں ہیں۔

شام نے ایک بار پھر اسرائیلی الزامات کی تردید کی ہے۔

فلسطین عسکریت پسند گروہ اسلامی جہاد نے دھماکے کے بارے میں متضاد بیانات دیے ہیں۔

غزہ میں اسلامی جہاد کی قیادت نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم غرب اردن میں تنظیم کی ایک شاخ نے ایک ویڈیو ٹیپ جاری کیا ہے جس میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

اسرائیل نےدھماکے کے الزام میں پانچ فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ فلسطینی پولیس نے بھی دو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

گرفتار ہونے والے دو افراد کا تعلق مغربی کنارے کے علاقے تلکرم کے نزدیکی گاؤں سے ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں افراد حملہ آور کے بھائی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے تلکرم کے شمال میں واقع گاؤں دیر الغسن پر چھاپہ مارا اور وہاں کرفیو لگا دیا۔ جس کے بعد تلاشی کے دوران اسرائیلی فوج نے مقامی پیش امام اور اکیس سالہ مشتبہ حملہ آور عبداللہ بدران کے بھائیوں کو گرفتار کر لیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس خود کش حملے کو امن کوششوں کے خلاف تخریب کاری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف چپ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا اس حملے کی تیاریوں کا سراغ لگایا جائے گا اور جو لوگ اس میں ملوث ہوں گے ان کو سزا دی جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد