’فلسطین اسرائیل سے تعاون کرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بش نے تل ابیب میں جمعہ کو ہونے والے خود کش بم حملے کی پوری شدت سے مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہائٹ ہاوس فلسطینی رہنماؤں سے رابطے میں ہے اور ان پر زور دے رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ معلوم کریں کہ کون سی تنظیم اس خود کش حملے کی ذمہ دار ہے۔ اسرائیل نے شام پر الزام لگایا ہے کہ تل ایبب میں ہونے والا خود کش حملہ اس نے کرایا ہے۔ شام نے اسرائیلی الزام کی تردید کی ہے۔ اس حملے میں کم از کم چار اسرائیلی ہلاک اور تیس کے لگ بھگ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع شاؤل موفاز نے کہا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ تل ابیب کے نائٹ کلب پر ہونے والا خود کش حملہ شام نے کرایا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے فلسطینی گروہ اسلامی جہاد کو بھی اس حملے کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔ اس گروہ کے دفاتر شام میں ہیں۔ شام نے ایک بار پھر اسرائیلی الزامات کی تردید کی ہے۔ فلسطین عسکریت پسند گروہ اسلامی جہاد نے دہماکے کے بارے میں متضاد بیانات دیے ہیں۔ غزہ میں اسلامی جہاد کی قیادت نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم غرب اردن میں تنظیم کی ایک شاخ نے ایک ویڈیو ٹیپ جاری کیا ہے جس میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اسرائیل نےدھماکے کے الزام میں پانچ فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ فلسطینی پولیس نے بھی دو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ گرفتار ہونے والے دو افراد کا تعلق مغربی کنارے کے علاقے تلکرم کے نزدیکی گاؤں سے ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں افراد حملہ آور کے بھائی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تلکرم کے شمال میں واقع گاؤں دیر الغسن پر چھاپہ مارا اور وہاں کرفیو لگا دیا۔ جس کے بعد تلاشی کے دوران اسرائیلی فوج نے مقامی پیش امام اور اکیس سالہ مشتبہ حملہ آور عبداللہ بدران کے بھائیوں کو گرفتار کر لیا۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس خود کش حملے کو امن کوششوں کے خلاف تخریب کاری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف چپ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا اس حملے کی تیاریوں کا سراغ لگایا جائے گا اور جو لوگ اس میں ملوث ہوں گے ان کو سزا دی جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||