BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 June, 2005, 02:56 GMT 07:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق: ایران اور شام ذمہ دار ہیں‘
رمسفلڈ
امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمسفلڈ سر ڈیوڈ فراسٹ کو بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے
امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمسفلڈ نے اعتراف کیا ہے کہ دنیا میں اکثر جگہوں پر امریکی ساکھ بری طرح خراب ہے اور اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیردفاع نے اس کی توجیہہ یہ پیش کی کہ دنیا میں جو بھی طاقتور ہوتا ہے ، لوگ اس کو گرانا چاہتے ہیں اور یہ بات ہمیشہ ہی رہے گی۔


اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خراب امریکی ساکھ کی ایک وجہ امریکہ کے پاس سفارتکاری اور ابلاغ کی مہارت نہ ہونا بھی ہے۔
عراق کی صورتحال پر ایک سوال کے جواب میں ڈونلڈ رمسفلڈ نے اعتراف کیا کہ وہاں سلامتی کی صورتحال ویسی ہی ہے جیسی کہ دو برس پہلے صدام حکومت کے خاتمے کے وقت تھی۔

تاہم انہوں نے مزاحمت کی موجودہ صورتحال کے لیے شام اور ایران کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شورش کے لیے شام ذمہ دار ہے جبکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات میں ایران کا کردار ہے‘۔


انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ عراق میں سکیورٹی دستے آہستہ آہستہ مضبوط ہوکر مزاحمت پر قابو پالیں گے۔

امریکی وزیردفاع نے گوانتانامو کے امریکی فوجی قید خانے کے بارے کہا
’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج بدقسمتی سےگوانتانامو کے مخصوص معنی بن گئے ہیں۔ اس قید خانے کے قیام پر دس کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے اور اب تین برس سے اس کو چلانے پر چوبیس کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’اس کے قیام کے وقت خود میں نے اس کو کمترین برا انتخاب قرار دیا تھا۔ صدر یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم معاملات کو بہتر بنانے کے راستے ڈھونڈتے رہیں گے۔ تاہم یہ دوسروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کوئی بہتر متبادل راستہ پیش کریں‘۔

امریکی وزیردفاع نے بتایا کہ ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ جوہری تنازعے پر فی الوقت امریکی ترجیح سفارتی حل کو ہی حاصل ہے لیکن طاقت کے استعمال کو قطعی خارج ازامکان قرار نہ دینے کی صدر بش کی بات بھی درست پالیسی ہے۔

49امریکی حکمت عملی
فلوجہ جیسی بڑی فوجی کاروائیوں کا آغاز
66مزاحمت کےدو سال
عراقی جنگ سے کس کو فائدہ ہوا کس کو نقصان
66کیا صحیح کیا غلط
عراقی معاملات اور امریکیوں کا اختلاف رائے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد