’عراق: ایران اور شام ذمہ دار ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمسفلڈ نے اعتراف کیا ہے کہ دنیا میں اکثر جگہوں پر امریکی ساکھ بری طرح خراب ہے اور اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیردفاع نے اس کی توجیہہ یہ پیش کی کہ دنیا میں جو بھی طاقتور ہوتا ہے ، لوگ اس کو گرانا چاہتے ہیں اور یہ بات ہمیشہ ہی رہے گی۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خراب امریکی ساکھ کی ایک وجہ امریکہ کے پاس سفارتکاری اور ابلاغ کی مہارت نہ ہونا بھی ہے۔ عراق کی صورتحال پر ایک سوال کے جواب میں ڈونلڈ رمسفلڈ نے اعتراف کیا کہ وہاں سلامتی کی صورتحال ویسی ہی ہے جیسی کہ دو برس پہلے صدام حکومت کے خاتمے کے وقت تھی۔ تاہم انہوں نے مزاحمت کی موجودہ صورتحال کے لیے شام اور ایران کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شورش کے لیے شام ذمہ دار ہے جبکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات میں ایران کا کردار ہے‘۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ عراق میں سکیورٹی دستے آہستہ آہستہ مضبوط ہوکر مزاحمت پر قابو پالیں گے۔ امریکی وزیردفاع نے گوانتانامو کے امریکی فوجی قید خانے کے بارے کہا ان کا کہنا تھا کہ’اس کے قیام کے وقت خود میں نے اس کو کمترین برا انتخاب قرار دیا تھا۔ صدر یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم معاملات کو بہتر بنانے کے راستے ڈھونڈتے رہیں گے۔ تاہم یہ دوسروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کوئی بہتر متبادل راستہ پیش کریں‘۔ امریکی وزیردفاع نے بتایا کہ ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ جوہری تنازعے پر فی الوقت امریکی ترجیح سفارتی حل کو ہی حاصل ہے لیکن طاقت کے استعمال کو قطعی خارج ازامکان قرار نہ دینے کی صدر بش کی بات بھی درست پالیسی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||