BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 May, 2005, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق میں صبر کی ضرورت ہے‘
کونڈولیزا رائس
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ عراق کے لوگ مطلق العنانی حکمرانی کے سیاہ دور سے نکل کر آزادی کی طرف آ رہے ہیں اور ان کو بدلے ہوئے حالات کو سھمجنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ عراق کے دورے پر پہنچ گئی ہیں۔ان کے اس دورے کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ عراق کی سیکورٹی فورسز ترقی کر رہی ہیں لیکن وہ اس دن عراق کا دورہ کر رہی ہیں جب عراق میں چونتیس لوگوں کی لاشیں ملیں ہیں جن میں کئی لاشیں سربریدہ تھیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا عراق میں مزاحمت کاری کو روکا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہاں لوگوں کو متبادل میسر آجائے۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے عراق میں موجودگی کے دوران مغربی صوبہ عنبار کے گورنر راجہ نواف کو رہا دیا ہے۔راجہ نواف کو منگل کے روز اغوا کر لیا گیا تھا۔

آیت اللہ سیستانی کے مشیر شیخ قاسم الغرویوی اور ان کے بھتیجے کو قتل کر دیا گیا۔

صوبہ دیالا کے گورنر رائید راشد کے قافلے پر خود کش حملے میں چار افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ مزاحمت کارروں نے منسٹری آف انڈسری کے ایک سینئر اہلکار پر حملہ کر کے اس کو ہلاک کر دیا۔

اسی دوران بغداد میں کئی خودکش بم حملے ہوئے جن میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایک حملے کا نشانہ ایک صوبائی گورنر کا کارواں تھا لیکن وہ بال بال بچ گئے۔

ایک اور واقعے میں وزارت صنعت کے دو ملازمین کو بغداد کے مغرب میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ شام کی سرحد کے نزدیک شمال مغربی عراق میں مزاحمت کاروں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کامیاب رہی ہے۔

ہفتے بھر جاری رہنے والی یہ کارروائی چھ ماہ پہلے فلوجہ میں ہونے والی فوجی کارروائی کے بعد سب سے بڑی کارروائی تھی۔ فوجی ترجمان نے بتایا ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کی ایک پناہ گاہ تباہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور انہوں نے سرنگوں کے ایک سلسلے کا سراغ بھی لگایا ہے جو مزاحمت کار عراق میں داخل ہونے کے لئے استعمال کرتے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق اس کاروائی میں سو سے زیادہ مزاحمت کار اور نو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں اپریل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد تشدد کی واقعات میں چار سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد