چار ’زخمی‘ امریکی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق سے موصولہ تازہ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز مغربی عراق میں شام کی سرحد کے قریب کی گئی کارروائی میں زخمی بتائے جانے والے چار امریکی فوجی اسی روز دم توڑ گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوجیوں کی گاڑی بم یا بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے باعث دھماکے سے اڑ گئی تھی۔ اس کے علاوہ وسطی بغداد میں پولیس کے ایک قافلے کو نشانہ بنانے کی غرض سے کیے گئے خودکش کار بم حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس واقعہ میں متعدد گاڑیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں اور جائے وقوعہ پر دھویں کے بادل چھا گئے جس کے بعد آگ بجھانے والے عملے نے وہاں پہنچ کر شعلوں پر قابو پایا۔ اٹھائیس اپریل کو عراق میں نئی حکومت کے اعلان کے بعد اب تک ہونے والے حملوں میں چار سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں سرگرم امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان جاری لڑائی کے سبب ہزاروں عراقی گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ عراق میں ریڈ کراس کے سربراہ سید اسمائیل حقی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً ایک ہزار خاندانوں کو ملک کے سرحدی شہر قائم سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سید اسمائیل حقی نے بتایا ہے کہ چار سو خاندانوں نے مشاری شہر کے سکولوں اور مسجدوں میں منتقل ہو گئے ہیں جس کے باعث وہاں پانی اور خیموں کی ضرورت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مختلف کارروائیوں کے دوران تقریباً ایک سو مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ عراق میں حالیہ ہفتوں کے دوران مزاحمت کاروں کی جانب سے کارروائیوں کے سبب امریکی فوجی نے گزشتہ سنیچر میٹاڈؤر نامی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ عراق میں اٹھائیس اپریل کو نئی حکومت کی تشکیل کے اعلان کے بعد ہونے والے حملوں میں اب تک تقریباً چار سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک کے نئے وزیراعظم ابراہیم جعفری نے جمعے کو چھ ماہ سے جاری ہنگامی حالات کے اعلان کی توسیع کر دی ہے تاکہ عراقی انتظامیہ مزاحمت کاروں پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کر سکے اور وارنٹ جاری کر سکے۔ بعقوبہ میں کیے گئے کار بم حملے میں دو فوجیوں سمیت تین عراقی ہلاک ہوئے ہیں۔ مغربی بغداد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک گشتی پارٹی پر مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ اے پی کی ررپورٹ کے مطابق ہِلہ میں واقع ایک فوجی ناکے پر مارٹر حملوں کے سبب تین عراقی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اے پی ہی کی رپورٹ کے مطابق مغربی بغداد میں وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ اہلکار کو بھی گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک گارڈ ہلاک ہو گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||