عراق میں تشدد، جاپانی اغواء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے مرکزی علاقے میں دو خودکش کار بم دھماکے ہوئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ پہلا کار بم شہر کے تجارتی مرکز میں پھٹا جس سے کم ازکم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کا ہدف ایک امریکی فوجی قافلے کو بنایا گیا تھا لیکن امریکی فوجی قافلے کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچا اور مرنے اور زخمی ہونے والے تمام عراقی شہری تھے۔ جانی نقصان کے علاوہ دھماکے سے علاقے میں مالی نقصان بھی کافی ہوا ہے۔ اس دھماکے سے اردگر کی دکانوں کو نقصان پہنچا اور قریب میں کھڑی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ چند گھنٹے بعد دوسرا دھماکہ اسوقت ہوا جب بارود سے بھری گاڑی دریائی پولیس کے ہیڈ کوارٹر سے ٹکرا دی گئی۔متعدد پولیس والے زخمی ہوئے۔
دریں اثنا عراق میں ایک اور جاپانی باشندے کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ اغوا کی اس واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے جاپان کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ عراق سے اپنے چھ سو کے قریب فوجیوں کو واپس نہیں بلائے گی۔ جاپانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اکی ہیکو سیتو جس برطانوی کمپنی میں ملازم تھے اس نے سیتو کے اغوا ہونے کی اطلاع دی ہے۔
سیتو جس کار میں سوار سفر کر رہے تھے اس میں سوار باقی لوگوں کو شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا ہے۔ عراق میں انصارالسناء نامی ایک تنظیم نے ایک ویب سائٹ کے ذریعے سیتو کو اغواء کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||