BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد کے درمیان کابینہ پر اتفاق
بغداد میں کار بم دھماکہ
نئی حکومت کے قیام کے بعد اب تک تشدد کی وارداتوں میں کم سے کم دو سو پچاس افراد مارے جا چکے ہیں
عراقی وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے اعلان کیا ہے کہ کابینہ میں خالی عہدوں کو پر کرنے کے لیے ناموں پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے نئے امیدواروں کے نام ظاہر نہیں کیے اور کہا ہے کہ ان ناموں کی فہرست اتوار کے روز پارلیمینٹ کے سامنے پیش کی جائے گی۔

مسٹر جعفری کے مطابق صدر جلال طالبانی اور ان نے دو نائبین نے نئی وزیر کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔

تاہم بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کے لیے عرب سُنی عالم سعدون الدولیمی اور وزارت تیل کے لیے شیعہ مسلمان بعرالعلوم کا نام لیا جا رہا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب بغداد کے ایک مصروف علاقے میں کار بم حملے میں چار غیر ملکیوں سمیت سترہ افراد ہلاک اور تینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ بغداد کے مقامی وقت کے مطابق گیارہ بج کر پانچ منٹ پر ہوا۔ یہ تیسرا دن ہے کہ بغداد میں لوگ کار بم حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ جمعہ کو ایک حملے میں سولہ اور جمعرات کو تئیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بدھ کو شمالی عراق میں اربیل میں پچاس افراد پولیس ریکروٹوں پر حملے کا نشانہ بن گئے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ سنیچر کی صبح ہونے والے حملے کا نشانہ ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کا تین گاڑیوں پر مشتمل کارواں تھا۔

اپریل کے آخر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اب تک تشدد کی وارداتوں میں کم سے کم دو سو پچاس افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد