عراق میں تشدد کی لہر، 22 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی فوج کو نشانہ بنانے کے لیے کئی حملے کیے گئے ہیں جن میں کم از کم بائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ تیرہ افراد اس وقت مارے گئے جب متھانا ائربیس میں بھرتی کے ایک سینٹر پر بمبار نے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ خود کو بھی ہلاک کر دیا۔ شہر کے مغربی حصے میں مسلح افراد نے جن کی شناخت نہیں ہو سکی دو مختلف چوراہوں پر پولیس کی ان پارٹیوں پر گولیاں داغ دیں جو گشت پر تھیں۔ ان حملوں میں نو پولیس افسران کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ حملوں کی یہ تازہ ترین لہر کرد شہر اربیل پر اس خوفناک خودکش حملے کے محض ایک دن بعد اٹھی ہے جس میں تقریبا ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ منگل کے روز عراق میں نئی حکومت نے حلف اٹھایا تھا۔ عراق میں مزاحمت کار عراقی پولیس اور رضاکاروں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں عراقی پولیس یا اس کی حمایت کرنے والے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھی ہیں۔ ائر بیس پر جو حملہ ہوا اس میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ یہ ائر بیس اس علاقے میں واقع ہے جہاں حکومت کے دفاتر ہیں اور یہیں سے عراقی نیشنل گارڈز کی بھرتی بھی کی جاتی ہے۔ اکثر خودکش بمباروں نے اس نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||