 |  وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے سب سے پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ |
عراقی دارالحکومت بغداد میں عراق کی نئی عبوری حکومت کے وزراء نے اپنے عہدوں کے حلف اٹھایا۔ عراق کے نئے وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے سب سے پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ عراق میں اس سال جنوری میں عام انتخابات منعقد کرائے گئے تھے۔ تاہم اب بھی کابینہ میں کچھ اہم عہدوں پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ مبصرین کے مطابق کابینہ میں عراق کے مختلف لسانی برادریوں کی موزوں نمائندگی نہایت ہی اہم ہے۔ اب تک کابینہ میں وزارت دفاع اور تیل سمیت سات عہدوں پر تقرریاں نہیں ہوئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان پر سنی مسلمانوں کو فائز کیا جائے گا، حالانکہ سنیوں کی بڑی جماعتوں نے انتخابات کا بائکاٹ کیا تھا۔ اب تک وزیر تیل، دفاع، بجلی، صنعت، انسانی حقوق اور دو نائب وزراء اعظم کے عہدوں پر اتفاق نہیں ہو پایا ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق تقریب شروع ہونے سے ٹھیک پہلے تک اس سلسلے میں مزاکرات جاری تھے تاہم کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہےکہ حکومت کو اس ناکامی سے دھکہ تو لگا ہے تاہم وہ اب بھی کوشش کر رہی ہے کہ سنیوں کو سیاسی عمل میں شامل کیا جائے۔ اسی دوران پچھلے ہفتے نئی کابینہ کے اعلان کے بعد عراق میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ |