عراق سے فوجی انخلاء کب ہو گا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیر داخلہ فلاح النقیب کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں آئندہ اٹھارہ ماہ میں عراق کو غیر ملکی افواج کی صرورت نہیں رہے گی۔ برطانوی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں عراقی عوام خود پر انحصار کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ واشنگٹن میں تمام اہلکار ’ایگزٹ سٹریٹیجی‘ یعنی انخلاء کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں لیکن اس کا عوامی سطح پر ذکر کسی کو بھی نہیں پسند۔ مگر سوال یہ ہے کہ عراق میں موجود امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیں علاقہ خالی کرنے کا آغاز کب اور کیسے کریں گی؟ بش انتظامیہ کے لیے عراق کی سیاسی اہمیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ زوگبی کے ایک سروے کے مطابق ساٹھ سے اسی فیصد عراقی حکومت کی تشکیل کے بعد ملک سے غیرملکی افواج کے انخلاء کے خواہشمند ہیں۔ تاہم امریکیوں کی پالیسی یہ ہے کہ عراق میں تعینات امریکی فوج کی تعداد اس وقت گھٹائی جائے جب نئی عراقی سکیورٹی فورسز مزاحمت سے نمٹنے کے قابل ہو جائیں۔
سینیٹ میں نامزدگی کی منظوری کے لیے ہونے والی سماعت کے دوران امریکہ کی نئی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ عراقی مسلح فوج ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہے۔ تاہم آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ عراقی فوجیوں کی تعداد سے متعلق وزیر خارجہ کا بیان گمراہ کُن ہے۔ واشنگٹن میں ’سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز‘ کی رپورٹ کے مطابق عراق میں پوری طرح تربیت یافتہ اور ہر طرح کے اسلحے سے لیس فوجیوں کی تعداد محض گیارہ ہزار ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چند عراقی فوجی دستے ہی ایسے ہیں جو امریکی مدد کے بغیر مزاحمت کاروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ عراق کے حالیہ انتخابات میں ووٹروں کی بڑی تعداد اور الیکشن کے روز پُرتشدد واقعات میں کمی سے شاید یہ امید بندھے گی کہ امریکی فوج عراق سے جلد واپس جانا شروع ہو جائے۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وہ موجودہ سال عراق ہی میں رہے گی اور اس بات کا بھی خاصا امکان ہے کہ امریکی بری دستے دو ہزار چھ میں بھی فرائص کی ادائیگی میں مصروف رہیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||