BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 January, 2005, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ رپورٹر لاگ‘
News image
عراق میں پچاس برس کے دوران ہونے والے پہلے کثیر الجماعتی کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ اس موقع پر بی بی سی کے نمائندے کیا کہتے ہیں۔

مغدی عبدالہادی: بی بی سی ورلڈ سروس، لندن

عرب دنیا کے دو مشہور چینل الجزیرہ اور العربیہ عراق میں ہونے والی ووٹنگ کی لمحہ بہ لمحہ خبر پہنچا رہے ہیں۔ العربیہ چینل پر عراقی باشندوں نے بات چیت کے دوران اس دن کو تاریخی قرار دیا ہے۔

عراق کی عبوری حکومت نے گو کہ الجزیرہ پر عراق میں کوریج کرنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے تاہم وہ خبر رساں اداروں کی اطلاعات کی بنیاد پر لمحہ بہ لمحہ صورتحال بیان کر رہا ہے۔

جم میور ، اربیل

دو پہر تک ووٹنگ کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی تاہم اب اس میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ پولنگ ختم ہونے میں تین گھنٹے رہ گئے ہیں۔

اس پولنگ سٹیشن پر تین ہزار ووٹ رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے اب تک زیادہ تر ڈالے جا چکے ہیں۔یہ کرد علاقہ ہے اور کرد جانتے ہیں کہ اگر وہ ووٹ ڈالیں گے تو انہیں اسمبلی میں نشستیں ملیں گی۔

فادل البدرانی، فلوجہ

فلوجہ میں ووٹنگ کے لیے دو یا تین جگہیں موجود ہیں۔ ایک جگہ جسے میں دیکھ سکتا ہوں ایک عوامی پارک کے اند واقع ہے۔اس پولنگ بوتھ پر پر اکادکا لوگ موجود ہیں جو اپنے ووٹ ڈالنے آئے ہیں۔

کرسچئن فریزر ، العمارہ

جیسا کہ کہا گیا تھا کہ شیعہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں گے اور ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔ بصرہ سے العمارہ تک ہزاروں لوگ سڑکوں پر قطار باندھے کھڑے ہیں۔یہاں تک کہ بصرہ سے 400 کلومیٹر دور الغبی اور کومیت جیسے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں بھی سینکڑوں لوگ ووٹ ڈالنے آئے ہیں۔

محمد حسین ، نجف

نجف میں اگرچہ بہت سی خواتین ووٹ ڈالنے آئی ہیں اور ان کی تعداد مرد ووٹروں کے مقابلے میں کم ہی ہے۔ میں نے بہت بزرگ افراد اور کچھ نابینا افراد کو بھی ووٹ ڈالنے آتے دیکھا ہے۔بہت سے ووٹروں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ سیستانی کے حکم کے بعد ووٹ ڈالنا ایک مذہبی فریضہ بن گیا ہے۔

کیرولین ہولی، بغداد

عراقی حکام کی اطلاعات کے مطابق اب تک سات خود کش حملے ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ صدر سٹی میں ایک مارٹر حملے میں چار ووٹر مارے جا چکے ہیں۔
گو کہ شدت پسند اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں لیکن ووٹنگ کو لے کر عوام میں خاصا جوش پایا جاتا ہے۔

پیٹر گرانٹ، ابو الخصیب

علاقے میں فجر کی اذان کے بعد لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر آنے کی ترغیب دی گئی۔ پولنگ کا وقت شروع ہوتے ہی ووٹر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ کچھ لوگ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائے ہیں۔ ووٹروں میں ہر عمر اور طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ایک ووٹر کا کہنا ہے کہ وہ بحیثیت ایک مسلمان کے ووٹ ڈال کر اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔ ایک عمر رسیدہ ووٹر کا کہنا تھا کہ اسے ایک آزاد اور جمہوری حکومت کی تشکیل کی امید ہے۔

بین براؤن، بصرہ

یہاں پر لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہیں۔ شہر میں چند پولنگ سٹیشن موجود ہیں جہاں پر ووٹروں کی طویل قطاریں ہیں۔ بہت سے ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا ہے۔ ووٹروں کو جامہ تلاشی کے بعد پولنگ سٹیشن میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد