عراق کا آنکھوں دیکھا حال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب جب کہ عراق میں انتخابات میں چندگھنٹے ہی باقی رہ گئے ہیں جنوبی عراق میں بظاہرصورتحال پرامن نظر آرہی ہے۔ برطانوی فوجی ذرائع کو صرف یہی خدشہ ہے کہ جنوبی عراق میں اگر پرتشدد کارروائیاں ہوئیں تو وہ یا الزبیر شہر میں ہوں گی یا ام المصعب میں کیونکہ باقی علاقوں کی نسبت انہی دونوں شہروں میں سنی آبادی نسبتاً زیادہ ہے۔ جمعرات کو یہاں الزبیر میں ایک پولیس سٹیشن میں دھماکہ ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ ایسے واقعات سے لگتا ہے کہ کہیں کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔ علاقے میں برطانوی فوجی مسلسل گشت کر رہے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران وہ پس پردہ کردار ادا کریں گے اور سکیورٹی کا انتظام عراقی پولیس کے تیرہ ہزار اور فوج کے دو ہزار اہلکار سنبھالیں گے۔ اگرچہ علاقے میں موجود برطانوی فوج سکیورٹی عراقی اہلکاروں کو سونپنے کی بات کر رہی ہے مگر عراقی پولیس اور فوجی اہلکاروں کی حالت سے نہیں لگتا کہ وہ انتخابات کا پرامن انعقاد کروانے کے لائق ہیں۔ میں جب آج الزبیر شہر کے پولنگ سٹیشنوں پر گئی تو وہاں موجود عراقی پولیس اہلکار یا تو سو رہے تھے یا پھر ٹی وی دیکھنے میں مشغول تھے۔ ایک برطانوی فوجی اہلکار نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی ہم نے عراقی فوج کو 500 ہیلمٹ اور 500 وردیاں فراہم کی ہیں تا کہ کم از کم ظاہری طور پر تو وہ منظم اور تربیت یافتہ نظر آئیں۔ جنوبی عراق میں فوج کے چیک پوائنٹس کی حالت بھی خراب ہے۔ رکاوٹ کے طور پر یا تو لکڑی کے بینچ رکھے گئے ہیں یا درختوں کے تنوں کو کاٹ کر سڑک پرڈال دیا گیا ہے۔ ایسا کہیں سے نہیں لگتا کہ یہ رکاوٹیں کسی خود کش حملہ آور کو روکنے کے قابل ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے حکم پر تین دن کے لیے تمام سویلین گاڑیوں کے سڑک پر آنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس پابندی کے باوجود برطانوی فوج کو ڈر ہے کہ خود کش حملہ آور سائیکل یا گدھا گاڑی پر سوار ہو کر پولنگ سٹیشن پہنچ سکتے ہیں۔ جہاں تک عام افراد کا تعلق ہے، بصرہ، ام القصر اور الزبیر جیسے شہروں میں چند افراد کو چھوڑ کر عام لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے جائیں گے۔ جہاں تک امیدوار کے چناؤ کا تعلق ہے تو کچھ لوگ واضح طور پر کہتے ہیں کہ وہ آیت اللہ سیستانی کی حمایت یافتہ جماعت کو ہی ووٹ دیں گے۔ عوام کا ایک حصہ ایاد علاوی کے حق میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاوی عراق کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیں گے۔ فلوجہ اور نجف کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ علاوی ایک مضبوط شخصیت ہیں۔ لوگوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اپنی وابستگی ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ انتخابات کوئی بھی جیتےمگر عوام میں انتخابات کو لے کر خاصا جوش وخروش پایا جاتا ہے۔ یہ جوش بھی چند دن سے ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ ابتدا میں انتخابی مہم پھیکی تھی۔ نہ ہی دیواروں پر پوسٹر موجود تھے اور نہ ہی سڑکوں پر بینر لیکن ان آیت اللہ سیستانی کی حمایت یافتہ جماعت کی انتخابی مہم زوروشور سے جاری ہے۔ اس کے برعکس ان کی مخالف سنی جماعت کے رہنما شیخ خالد سے جب میں نے بات کی تو ان کا رویہ انتخاب مخالف ہی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتخابات غلط ہیں کیونکہ سنی اقلیت کی آواز ہی سنی نہیں جا رہی اور سکیورٹی سسٹم میں ان کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ عام سنی عراقی گو کہ انتخابات کے مخالف ضرور ہیں لیکن اس پیمانے پر نہیں جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جا رہا ہے کیونکہ جب عوام سے بات کی جائے تو ان کا کہنا یہی ہوتا ہے کہ ’ہم ووٹ ضرور دیں گے‘۔ انتخابات سے عراقی عوام کی روزمرہ زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑا اور لوگ اپنے کام معمول کے مطابق کر رہے ہیں۔ گو کہ ملک میں شام آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ ہے لیکن زندگی اپنی ڈگر پر رواں دواں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||