اتحادی فوجی زیادہ ہلاکتیں کر رہے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی اور عراقی فورسز مزاحمت کاروں سے ساٹھ فیصد زیادہ عام شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے جان سمپسن کو ایسی خفیہ معلومات ملی ہیں جس کے مطابق عراق میں امریکی اور اس اتحادی فوجی زیادہ عام شہری ہلاک کر رہے ہیں۔ عراقی کی وزارت صحت کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی ایک 2004 سے لے کر جنوری ایک 2005 تک دو ہزار سے زیادہ عام شہریوں کو امریکی اور عراقی فوجیوں نے ہلاک کیا ہے جبکہ مزاحمت کاروں کے خود کش حملوں میں بارہ سو لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ عراق کی وزات صحت کا ریکارڈ صرف عراق کی عبوری کابینہ کے ممبران کو مہیا کیا جاتا ہے۔ ان اعداو شمار کے مطابق جولائی 2004 سے شروع ہو کر سات مہینوں میں 3274 عراقی شہری مارے گئے اور 12657 زخمی ہوئے۔ ان ہلاک میں ساٹھ فیصد یعنی 2041 کو امریکی اور اتحادی فوج نےہلاک کیے اور 8542 کو زخمی کیا۔ عراق میں امریکی سفیر جان نیگروپونتے نے بی بی سی پینوراما کو بتایا ہے کہ اس کے خیال میں عام شہریوں کی زیادہ ہلاکتیں کار بم دھماکوں سے ہوئی ہیں۔ عراق میں امریکی اور اس کے اتحادیوں نے بی بی سی کے اس پروگرام میں اپنا موقف نہیں دیا ہے۔ عراق میں عام شہریوں کے مرنے کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے۔ غیر سرکاری ریکارڈ کے مطابق عراق میں جاری تنازعے میں اب تک 10000 سے لے 100000 تک ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||