’اتنی ہی ہلاکتیں اور ہو سکتیں ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگر بحر ہند میں آنے والے بدترین طوفان کے متاثرین کو اگر طبی امداد اور پینے کا پانی بروقت نہ پہنچایا گیا تو اتنی ہی تعداد میں بیماروں سے ہلاک ہو سکتے ہیں ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر ڈیوڈ نیبرو نے کہا ہے کہ اگر لوگوں کو ضروریات زندگی وقت پر نہ ملیں تو ہلاکتوں کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں کا باعث وبائی اور دوسری بیماریاں ہوں گی۔ انہوں نے کہا وبائی امراض سے بچنے کے لیے صرف دوائیں نہیں بلکہ پینے کا صاف پانی، خوراک اور رہنے کی جگہ بھی چاہئے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر نے کہا ادارے کو بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں میں دستوں اور پیٹ کی دوسری بیماریوں کے بارے میں زیادہ تشویش ہے۔ اس کے علاوہ سانس کے امراض، ملیریا اور گردن توڑ بخار کی وبائیں بھی خطرناک ہو سکتی ہیں۔ اس طوفان نے ایک ہی وقت میں دس ملکوں میں تباہی مچائی ہے۔ متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی امداد کا کام جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||