سمارا میں 40 سے زائد ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے شمال میں سمارا شہر میں چار کار بم حملے ہوئے ہیں جن میں 43 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دس پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کے کہنا ہے ایک دھماکہ میئر کے دفتر کے باہر ہوا، جبکہ دوسرا دھماکہ عراقی نیشنل گارڈز کی قائم کردہ ایک چوکی کے پاس ہوا۔ امریکی فوج کے ایک قافلے پر بھی حملہ کیا گیا۔بظاہر ان حملوں کی پیشگی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور ان میں عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔ سیکورٹی افواج اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاع ہے۔ عراقی حکومت اب سے پہلے تک یہ کہہ کر سمارا کی مثال دیتی رہی ہے کہ یہاں پر باغیوں کو بہت اچھی طرح سے کنٹرول کیا گیا ہے۔ اکتوبر کے اوائل میں امریکی اور عراقی فوج نے اس شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ مزاحمت کاروں نے سمار میں اکثر عراقی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ لوگ امریکیوں کی امداد کر رہے ہیں۔ سمارا شہر بغداد سے پچانوے کلومیٹر دور ہے اور اس کی آبادی دو لاکھ ہے۔ یہاں بھی امریکی سالاری میں عراق پر حملہ کرنے والی فوج کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں۔ سمارا میں کار بم حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی افواج فلوجہ شہر پر ایک بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||