عراقی ہلاکتیں، تحقیقات کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں فوجی افسران، سابق سفارتکاروں اور چرچ کے پادریوں سمیت چھیالیس ممتاز شخصیات نے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیں۔ ان برطانوی شخصیات نے ٹونی بلیئر کو خط لکھنے کا فیصلہ ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے بعد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ عراق میں امریکی اور برطانوی افواج کے حملوں کے بعد اب تک ایک لاکھ عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگرچہ برطانوی وزراء نے ’لانسیٹ‘ نامی اس جریدے میں شائع ہونے والی تعداد کو مسترد کر دیا ہے ، تاہم اس خط پر دستخط کرنے والوں نے جن میں برطانیہ کی متعدد ممتاز شخصیات شامل ہیں ٹونی بلیئر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوراً ایک آزادانہ انکوائری کا حکم دیں تاکہ عراق میں امریکی اور برطانوی افواج کے حملوں کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے شہریوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ مذکورہ انکوائری میں عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کی وجوہات کا بھی پتہ لگانا ضروری ہے۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں فوج کے ریٹائرڈ جنرل سر ہیوز بیچ، برطانوی فوج کے سابق نائب سربراہ لارڈ گارڈن، عراق میں برطانیہ کے ایک سابق سفیر اور مشہور مصنف ہیرلڈ پنٹر شامل ہیں۔ اس خط میں ٹونی بلیئر سے مخاطب ہو کر کہا گیا ہے کہ ’ مسٹر بلیئر آپ کو اس بات کا اچھی طرح علم ہوگا کہ کہ آپ کی حکومت بین الاقوامی معاہدے کے تحت اس بات کی پابند ہے کہ وہ عراق میں عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے‘۔ ’لیکن جب تک یہ نہیں پتہ چلتا کہ عراق میں کل کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے کسی کو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ آیا برطانیہ یا اتحادی ممالک عراق میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہیں یا نہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||