امریکی تحویل میں 37 ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمۂ دفاع کے اہلکاروں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کی تحویل میں اب تک سینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکہ کے بقول ان سینتیس میں سے عراق اور افغانستان میں آٹھ قیدیوں کی اموات کو میڈیکل حکام نے انسان کُشی بتایا ہے۔ ان اموات میں سے بعض کو فطری قرار دیا گیا ہے اور بعض کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ تاہم ان میں سے دس اموات قتل کے زمرے میں داخل ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے دو قیدی ابو غریب کی اس جیل میں مرے جہاں امریکی فوجیوں نے دیگر کئی قیدیوں کی تحقیر کی اور انہیں مارا پیٹا۔ امریکہ کے محکمۂ دفاع میں ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ واقعات کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے جبکہ دیگر واقعات کی انکوائری ہونا ابھی باقی ہے۔ دو ہفتے قبل امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ دسمبر 2002 سے لیکر اب تک پچیس اموات کی تحقیقات شروع کر رہا ہے۔ جمعہ کو حکام نے بتایا کہ اب آٹھ مزید واقعات بھی انکوائری میں شامل کیے جا رہے ہیں جن سے ان اموات کی تعداد پچیس سے بڑھ کر تینتیس ہو گئی ہے۔ اس دوران میں امریکی خبری ذرائع میں عراق کے قید خانے ابو غریب کے قیدیوں کے کچھ اور وڈیو ٹیپ دکھاۓ گۓ ہیں جن میں امریکی فوجی قیدیوں کی پٹائی کررہے ہیں اور انہیں ذلیل کررہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||