عراق: ایک سال، پانچ ہزار ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے عراق میں لوگوں کی ہلاکتوں پر ایک جائزہ کروایا ہے جس کے مطابق ایک سال کے دوران عراق میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس جائزے کے مطابق صدر بش کی طرف سے بڑی فوجی کارروائی کے خاتمے کے اعلان کے بعد بارہ ماہ کے عرصے میں بغداد، کرکک اور کربلا میں پانچ ہزار سے زیادہ عراقی مارے گئے ہیں۔ جائزے کے مطابق مرنے والے عراقیوں کی یہ تعداد تین سو پچاس ماہانہ سے زیادہ ہے۔ اسی عرصے کے دوران سن دو ہزار دو میں عراق میں مارے جانے والوں کی تعداد صرف چودہ تھی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹ انٹرنیشنل نے مارچ کے مہینے میں بتایا تھا کہ عراق پر حملے اور بعد میں وہاں قبضے کے بعد سے اب تک لگ بھگ دس ہزار عراقی شہری مارے گئے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں ہونے والے اس اضافے میں سڑکوں پر پیش آنے والا حادثات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کی اس تعداد میں مجرمانہ حملوں یا سرگرمیوں میں زندگی سے ہاتھ دھونے والے عراقی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||