’دہشت گرد ناکام ہو گئے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیراعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ ملک میں کئی دہائیوں بعد ہونے والے جمہوری انتخابات نے دہشتگردوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ عراق میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہو گیا ہے اور دریں اثناء ایاد علاوی نے کہا ہے کہ عراق تاریخ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے اس لیے عراقیوں کو ماضی کے تفرقات پسِ پشت ڈال کر مل جل کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی سطح پر مذاکرات کا آغاز کریں گے تاکہ نئی حکومت میں تمام عراقیوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عراق میں سرکاری اندازوں کے مطابق رجسٹرڈ ووٹروں کی ساٹھ فیصد تعداد یعنی تقریباً اسی لاکھ افراد نے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ عراق میں موجود اقوام متحدہ کے انتخابی مشیر کارلوس ولینزویلیا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقِ رائے دہی استعمال کرنے والوں کی حتمی تعداد کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سنی اکثریتی علاقوں میں جہاں امریکہ مخالف مزاحمت سب سے زیادہ رہی ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق ووٹ دینے والوں کی تعداد توقع سے زیادہ رہی ہے۔ عراق میں مزاحمت کاروں کی طرف سے دھمکیوں کے باوجود لاکھوں عراقیوں نے ووٹ دیئے۔ ووٹنگ کے عمل پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی ٹیم کے سربراہ ژان پیئرے کنگسلی نے کہا ہے کہ الیکشن عمومی طور پر بین الاقوامی معیار کے مطابق رہا البتہ امن و امان کے بعض پہلوؤں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ سکیورٹی کے پیش نظر اس بین الاقوامی ٹیم کو اردن میں تعینات کیا گیا تھا۔ امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے عراقی انتخابات کو بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
صدر بش نے عراقی عوام کی جرات کو سراہا اور ٹونی بلیئر نے ان انتخابات کو دہشت گردی پر ایک کاری ضرب سے تعبیر کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ مستقبل کی باگ ڈور سنبھالنے پر عراقیوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ تاہم چین میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے متضاد رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے دوران تشدد جاری رہا اور ملکی صورت حال بدستور گھمبیر ہے۔ عراق پر امریکہ کی طرف سے جنگ مسلط کیے جانے کے خلاف آواز بلند کرنے والے ممالک نے بھی ان انتخابات کو عراقیوں کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ژاک شیراک نے عراقی الیکشن کو ’بین الاقوامی برادری کی عظیم فتح‘ سے تعبیر کیا جبکہ جرمنی کے چانسلر گرہارڈ شروڈر کے ترجمان نے کہا کہ ووٹروں کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عراقی اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کے شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ علی السیستانی نے ووٹ دینے پر عراقیوں کا شکریہ ادا کیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ اور کرد اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ کی شرح سنی اکثریتی علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ انتخابات کے روز بھی عراق بھر میں پُرتشدد واقعات ہوتے رہے جن کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے۔ عراق میں ووٹنگ کے باضابطہ اختتام سے کچھ ہی دیر پہلے ایک برطانوی فوجی ہوائی جہاز بغداد کے شمال میں زمین پر آ گرا جس کے نتیجے میں کم از کم نو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||