BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 January, 2005, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں ووٹنگ: نئے دور کا آغاز؟
کیا عراقی انتخابات سے سیاسی استحکام آئے گا؟
کیا عراقی انتخابات سے سیاسی استحکام آئے گا؟
عراق کے پہلے جمہوری انتخابات میں دو سو پچہتر رکنی قومی اسمبلی کے انتخابات کے لئے عراق کے اٹھارہ صوبوں میں لوگوں نے تیس جنوری کو ووٹ دیا ہے۔ان کثیرالجماعتی انتخابات میں ایک سو سے زائد جماعتیں یا سیاسی اتحاد میدان میں تھیں۔

ووٹنگ کے شروع ہوتے ہی کئی خودکش دھماکے ہوئے اور بغداد کے اردگرد ہونے والے ان دھماکوں میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اندازے کے مطابق شیعہ برادری والے علاقوں میں لوگ بھاری تعداد میں ووٹ پڑے جبکہ سنی برادری والے علاقے میں جہاں تشدد زوروں پر رہا ہے، بعض مقامات پر پولنگ سٹیشنوں سنسان رہے۔

آپ عراقی انتخابات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا عراقی انتخابات سے سیاسی استحکام آئے گا؟ کیا عراقی عوام کے لئے یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

رانا آصف، واہگہ کینٹ:
کون سے اور کیسے الیکشن؟ وہ الیکشن جو بندوق کے سائے میں لڑے گئے ہیں، جس کے نتائج پہلے ہی انجینیئر کرلیاے گئےتھے، جس سے ایک اور حامد کرزئی کا اضافہ ہوجائے گا اور عوام جس سے نفرت کریں گے، جو اپنے قوم کی بجائے بیرونی آقاؤں کا زیادہ محافظ ہوگا، جلد یا دیر لوگوں کی بڑھتی ہوئی مزاحمت کی وجہ سے امریکہ کو عراق خالی کرنا ہوگا۔۔۔۔

صہیب، کرکک، عراق:
میں کرکک کا رہنے والا ہوں۔ لیکن میں نے دوبئی میں ووٹ دیا کیوں کہ میں سعودی عرب میں کام کرتا ہوں۔ بہت اچھا لگا! میرے عراقی ساتھی جو پولنگ بوتھ میں تھے کافی خوش تھے۔ میں ان کو سلام کرتا ہوں، بالخصوص ان لوگوں کو جو عراق میں ہیں اور جنہوں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر صدام حسین کے ٹھگوں کی مخالفت کی۔۔۔۔

عبدالصبور ملک، جموں اور کشمیر:
اس عمل سے عراق کی سیاسی استحکام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، بلکہ حالات اور زیادہ خراب ہوں گے۔

عمر علی خیل، ہنگو:
عراق میں سیاسی استحکام بالکل نہیں آئے گا۔ امریکہ نے شیعہ سنی فسادات کا ایک نیا دور اب شروع کیا ہے۔ اب عراق میں خانہ جنگی ہوگی، اور امریکہ اب اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگیا ہے۔

فیاض احمد، پاکستان:
یہ ووٹنگ عراقیوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش ہے۔ اس سے امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

عراقی عورت، بغداد:
میں پولنگ بوتھ سے ابھی واپس آئی ہوں۔ مجھے تعجب ہے، کافی لوگ ووٹ دینے آئے ہیں: شیعہ، سنی، مسلم، کرسچین، مرد، عورت۔ دہشت گردوں نے میرے پڑوس میں دھمکی دی ہے کہ ہم الیکشن اور اپنی زندگی میں سے کسی ایک کو چنیں۔ پھر بھی کوئی شخص ڈرا نہیں۔ میرے لئے اور عراقیوں کے لئے، میں سمجھتی ہوں کہ یہ فرد کے سر نہ جھکانے کا عزم ہے جسے دہشت گرد ڈرا نہیں سکتے۔

حیات خان مری بلوچ، کوئٹہ:
مجھے نہیں لگتا کہ عراق میں ان انتخابات سے کوئی بڑی تبدیلی آجائے گی۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ عراقی لوگ بدقسمت ہیں کہ انہوں نے خود امریکہ کو لایا۔۔۔ ہزاروں لوگ صدام کے دور میں مارے گئے اور ہزاروں امریکہ کی وجہ سے۔ آخر کیا ملا؟

حنیف، سوات:
امریکہ نے عراقی مجاہدین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ اب عراق سے نکلنے کی کوشش میں ہے تاکہ عراق سے باعزت طور پر نکل جائیں۔ موجودہ انتخابات عراق سے بےعزت طور پر نکالنے کی ایک ناکام کوشش ہے جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔

شمریز خان، کویت:
عراق میں الیکشن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ امریکی اور دیگر فورسز کو عراقی جلدی سے چھوڑ دینا چاہئے۔ معصوم لوگوں کا قتل بند کریں۔

سیٹھ عبدالرحمان، کویت:
انتخابات امن کی پیش قدمی ثابت ہوں گے، بعد میں سیاسی استحکام بھی آئےگا۔

محمد علی، لاہور:
الیکشن میں کون جیتے گا اس سے زیادہ اس چیز کی اہمیت ہے کہ لوگوں کی آواز کم از کم دنیا اور امریکہ کے ایوانوں میں پہنچ جائے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بائیکاٹ کر کہ وہ مستقبل میں امریکہ کو خودکش بمباری کے ذریعے عراق سے نکال دیں گے وہ غلط سمت میں سوچ رہے ہیں۔ کاش ہم اس موقع پر روایتی فرقہ پرستی سے باز رہ سکتے۔

قاسم عباس، کراچی:
اب امریکہ چاہے کسی کو بھی وزیراعظم یا پریسیڈنٹ بنائے، جو میسج عراقیوں نے دنیا کو دینا تھا وہ دے دیا ہے۔۔۔۔

عارف رضوی، لاہور:
آیت اللہ سیستانی کو ہمارا سلام۔ نیوز پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ایک عالمِ حق اور عارف آدمی کی کیا اہمیت ہے۔ وہ یقینا مستقبل کا ادراک کرکے فیصلہ کرتے ہیں نہ کہ ان لوگوں کی طرح جو جذبات میں آکر معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ جیت سے زیادہ امریکہ کو آئنہ دکھانے کی ضرورت ہے جو کہ عراقیوں نے آیت اللہ سیستانی کا حکم مان کر آج دکھا دیا۔

محمد حسین، سعودی عرب:
مجھے دکھ ہوتا ہے یہ پڑھ کر کہ لوگ جو آج شیعوں پر صرف اس وجہ سے اعتراض کررہے ہیں کہ وہ اپنے لیڈر کا آرڈر مان کر ووٹ دے رہے ہیں۔ وہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب صدام بےدردی سے شیعوں اور ان کے علماء کو شہید کرواتا تھا، کیا یہی اسلام کی تعلیم ہے؟

نیر علی، دوبئی:
میں تمام مسلمان بھائیوں سے ریکویسٹ کروں گا کہ نیوٹرل ذہن سے سوچ کر دیکھیں کہ کون چاہتا ہے کہ الیکشن میں پرابلم ہو۔ ایاد علاوی، غازی الیاور اور بش کمپنی کےسکیورٹی سے متعلق بیانات پڑھ کر اور الزرقاوی کے حملوں کی دھمکیاں سن کر جو شکل آتی ہے وہ کافی کلیئر ہے۔ سب کا ایجنڈا ہے۔

شاہد شاہ کرمانی، لاہور:
بے شک یہ نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ لیکن معلوم نہیں کہ آنے والا دور عراقیوں کے حق میں یا امریکہ کے حق میں اچھا ثابت ہوگا۔

سارہ خان، پشاور:
عراقی عوام مذہب کے نام پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تقسیم ہوجائیں گے۔ مسلمانوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے اور امن اور اخوت کو فروغ دینا چاہئے۔ آج دنیا جس سیاسی مراحل سے گزر رہی ہے مسلمانوں کو اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سخت گیر موقف مسلمانوں کو تنہا کرسکتی ہے۔ جب تک مسلمان ترقی نہیں کریں گے ڈِپلومیسی کا سہارا لینے میں کوئی حرض نہیں۔

حمید خان، کوئٹہ:
عراقی عوام کے سر پر دو دھاری تلوار لٹک رہی ہے۔ الیکشن میں حصہ نہ لیں تو بھی نقصان اور نہ لیں تو بھی خطرہ۔ اللہ عراقیوں کو آزادی نصیب کرے۔

جان اسمتھ، کینیڈا:
عراق میں الیکشن عراقی لوگوں کی چوائس ہے۔ شیعہ، سنی اور کرد کا معنی کچھ بھی نہیں، اہم بات یہ ہے کہ انتخابات جمہوریت کی جانب ایک پیش قدم ہیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ پہلے عراق کو آزاد تو کرائیں۔ الیکشن کا کیا فائدہ جو عوام کو ایک وقت کی روٹی نہیں دے سکتے۔

اصغر خان، چین:
مجھے یقین نہیں آتا۔ لیکن چلئے دیکھتے ہیں کہ امریکہ عراقی عوام کے فیصلے کو مانتا ہے یا نہیں۔

رمن سنہا، کینیڈا:
سب ڈھونگ ہے، سب کو پتہ ہے کہ عراق میں اصلی کنٹرول امریکیوں کے ہاتھ میں ہے۔ عراق کے تیل پر عراقی عوام کا جس دن کنٹرول ہوگا اسی دن عراق صحیح معنی میں آزاد ہوگا۔

جیک، واشنٹگن:
آج کے ہیرو عراقی لوگ ہیں، نہ کہ سیاست دان۔ آزاد دنیا میں جو زندگی ہمیں ملی ہے انہیں بھی ملنے چاہئیں۔

تاج عالم کرمانی، ٹورانٹو:
حیرت ہے کہ بی بی سی جیسا معتبر ادارہ بھی امریکہ کی اس ڈرامہ بازی کو الیکشن کہتا ہے۔

ایڈ ہیوم، برطانیہ:
میں جنگِ عراق کی مخالفت کی تھی کیونکہ وہ اپنا رعب دکھانے کے لئے کی گئی تھی لیکن اب میں جمہوریت کے لئے عراقی عوام کی کوشش کو سیلوٹ کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اسے حاصل کرلیں گے۔

دھننجے ناتھ، گوپال گنج، بہار:
ان انتخابات سے عراق میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آنے والی ہے۔ سب کچھ ویسے ہی رہے گا۔

سرور ثاقب بخاری، پاکستان:
انت بھلا سو بھلا۔ الیکشن کی بات الگ، اہم یہ ہے کہ لوگوں کی رائے کو اہمیت ملتی ہے یا نہیں۔ یہ الیکشن بچوں کا کھیل ہیں۔

محمد علی پنوار، خیرپور:
مجھے خوشی ہے کہ پانچ عشروں کی آمریت کے بعد عراقی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔ میں عراقیوں کے لئے ایک بہتر عراق کی دعا کرتا ہوں۔

ہلال باری، کراچی:
یہ الیکشن نہیں، بلکہ کسی کٹھ پتلی کو وزیراعظم بنانے کی اوپن سازش ہے جیسا انہوں نے افغانستان میں کیا ہے۔ شیعہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ الیکشن میں حصہ لیکر عراق پر کنٹرول حاصل کرلیں گے تو یہ ان کی ۔۔۔۔

جوائے بٹلر، جرمنی:
مجھے خوشی ہے کہ پہلی بار جمہوری طور پر عراقیوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ مجھے نفرت ہے ان لوگوں سے جو جارج بش پر تنقید کرتے ہیں۔ میں بش کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے عراقی قوم اور عراقیوں کے لئے اس دن کو ممکن بنایا۔

ہاشم عمر، صومالیہ:
ووٹنگ کے ذریعے عراق میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا، طاقت کے ذریعے جمہوریت نہیں قائم کی جاسکتی۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
عراق اور عراقی انتخابات دو الگ الگ باتیں ہیں۔ بموں، گولیوں اور دھماکوں کے سائے میں کروائے گئے انتخابات کیا استحکام لاسکتے ہیں؟ سیاست وہ کیا کریں گے جن کی اپنی جان کی ضمانت نہیں؟ بس بش انتظامیہ اپنے دوسرے دور میں اپنی اہمیت جتانا چاہتی ہے کہ دیکھوں ہم اپنے وعدوں کے کتنے پابند ہیں۔

ناصر خان، راولپنڈی:
جی ہاں، یہ ایک نئے اور زیادہ تاریک دور کا آغاز ہے۔۔۔۔

رے ہووِٹ، انگلینڈ:
ایک الیکشن جہاں ہر شخص ووٹ نہیں دے رہا ہے، بے معنی ہے۔ یہ سب کچھ مضحکہ خیز لگتا ہے اور نتائج کچھ بھی نکلیں، امریکہ عراقیوں کی دولت اور تیل پر کنٹرول برقرار رکھے گا۔

کاظمی مقدس، پاکستان:
وہ لوگ جو بےگناہ لوگوں کی اندوہناک طریقے سے گردن اتار رہے ہیں یہ الیکشن ان کے لئے موت ثابت ہوگا۔ اگر یہ استدلال کیا جائے کہ ووٹنگ سے امریکہ آجائے گا تو گردن اتارنے سے کون سا اسلام آرہا ہے؟ اگر امریکی سارے پاکستانیوں یا دیگر ممالک کے لوگوں کو امریکہ میں دہشت گرد قرار دےکر گردن کاٹنا شروع کردیں تو کیا وہ ٹھیک ہوگا؟ الیکشن ضرور ہونا چاہئے۔

زیمبیا، پیٹر سیمبوکو:
عراق کا مستقبل اس بات پر منحصر کرے گا کہ وہ لوگ آج کیا کرتے ہیں۔

محمود، دوبئی:
یہ بات کہ انتخابات ہورہے ہیں چاہے جن حالات میں بھی، یہ ثابت کرتے ہیں کہ جارج بش عراقیوں کی جان اور عراقی میں خانہ جانگی کے امکان کی فکر نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنے وعدے کی فکر کرتے ہیں اور چاہے جیسے بھی حالات ہوں وہ الیکشن کرانا چاہتے ہیں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
جس ملک کے صدر اور وزیراعظم کی حکومت ان کے محل اور گلی کوچے تک ہو اور خود باہر ووٹ ڈالنے نہیں جاسکتے ان سے کسی کی زندگی کی ضمانت اور اچھے عراق کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟

نِک، آسٹریلیا:
میں امید کرتا ہوں کہ یہ حالات خانہ جنگی میں نہ تبدیل ہوجائیں۔

ارشد الجعفر، بغداد:
مجھے پورا یقین ہے کہ انتخابات کامیاب رہیں گے کیونکہ لوگوں میں آزادی کا احساس ہے۔ اگر دنیا محمود عباس کو صرف تیس فیصد ووٹنگ کے بعد فلسطینی صدر کی حیثیت سے تسلیم کرسکتی ہے تو پھر ہمیں انہیں بھی تسلیم کرنا چاہئے جو آج کی ووٹنگ کے ذریعے اقتدار میں آئیں گے۔

ڈاکٹر عبدالصمد، برطانیہ:
میں نے گزشتہ ہفتے ووٹنگ کے لئے رجسٹریشن کرانے کے بعد اب الیکشن کا بائیکاٹ کررہا ہوں۔ جارج بش عراقیوں کی مخالفت کے باوجود چاہتے تھے کہ انتخابات ہوں۔ انتخابات کا وقت ٹھیک نہیں ہے۔ ایک عراقی کی حیثیت سے میں جاننا چاہوں کہ کتنے بین الاقوامی نگران ان انتخابات کی نگرانی کررہے ہیں؟ صرف ایک اس اٹھارہ وہ سب گرین زون میں قیام پزیر ہیں۔ اگر زمبابوبے میں اس معیار کے انتخابات ہوتے تو کیا انہیں تسلیم کرلیا جاتا؟

عراقتشدد کے سائے میں
انتخابی تیاریاں اور تشدد کے واقعات ساتھ ساتھ
عراقعراق ٹائم لائن
عراق میں گزشتہ ایک صدی کے اہم واقعات
عراقکون کہاں آباد ہے؟
عراقی آبادی کی مذہبی اور نسلی تقسیم کا نقشہ
انتخاباتعراقی کیا کہتے ہیں؟
انتخابات پر عراقی عوام کے تاثرات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد