BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 January, 2005, 15:05 GMT 20:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملہ
ووٹنگ کے روز نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں
ووٹنگ کے روز نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں
بغداد کے انتہائی محفوظ علاقے میں قائم امریکی سفارتخانے پر ایک راکٹ حملہ ہوا ہے جس سے دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانے پر راکٹ سے حملہ کیا گیا۔ سفارت خانے کے ایک عہدیدار کے مطابق دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل عراق کے عبوری صدر غازی یاور نے کہا ہے کہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں بہت سے عراقی ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

صدر غازی یاور نے کہا کہ انتخابی عمل میں حصہ نہ لینے کی وجہ ملک میں جاری تشدد ہے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کہ عراقیوں کی انتخابی عمل میں عدم شرکت کسی احتجاج کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ تشدد کا خوف ہے۔

عراق کے پہلے جمہوری انتخابات میں اتوار کی ووٹنگ سے قبل سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، بغداد کا ایئر پورٹ بند کردیا گیا ہے، کرفیو نافذ ہے، سرحدیں سِیل ہیں اور سڑکوں پر نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے انتظامات اتنے سخت ہیں کہ روز مرُہ کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ تاہم مزاحمت کاروں کے حملے جاری ہیں۔ بغداد کے شمال مشرق میں واقع شہر خاناقن میں ایک خود کش حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد مارے گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ، پانچ شہری اور تین عراقی فوجی ہیں۔ اس حملے میں چھ افراد زخمی بھی ہوئے۔ ایک دوسرے واقعے میں عراق کے مرکزی شہر صواریہ میں ایک مارٹ حملے میں ایک عراقی فوجی مارا گیا۔ دارالحکومت بغداد میں سخت سکیورٹی والے گرین زون کے قریب فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ملک کے صدر غازی الیاور نے کہا ہے کہ اتوار کی ووٹنگ میں عراقیوں کی اکثریت حصہ نہیں لے گی۔ انہوں نے کہا: ’ہم امید اس بات کی کرتے ہیں کہ بیشتر عراقی ووٹنگ میں حصہ لیں گے لیکن ہم جانتے ہیں کہ سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے اکثریت ووٹ نہیں دے گی۔‘

اتوار کے روز عراق کے اٹھارہ صوبوں میں ووٹنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ چار صوبوں میں، جہاں سنی اکثریت پر مبنی ملک کی لگ بھگ انیس فیصد آبادی رہتی ہے، تشدد زوروں پر ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شیعہ آبادی اور کرد علاقوں میں ووٹنگ قدرے پرامن رہے گی۔

تاہم گزشتہ ہفتے میں مزاحمت کاروں کی پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد مارے گئے ہیں اور بالخصوص پولِنگ سٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کئی عراقی شہر ’بھوت کا شہر‘ لگ رہے ہیں اور مقامی باشندوں کے اندر خدشہ ہے کہ ووٹنگ کے دوران تشدد کے بدترین واقعات پیش آئیں گے۔

سنیچر کے روز جب بغداد میں عراقی سکیورٹی فورسز سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کررہے تھے اس وقت کئی دھماکے ہورہے تھے اور امریکی فضائیہ کے جہاز شہر پر گردش کررہے تھے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ووڈ کا کہنا ہے کہ بڑے دھماکوں کے خدشات کے باوجود بغداد میں اس طرح کا بڑا واقعہ نہیں پیش آیا ہے۔

سنی برادری سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے عراقیوں سے ووٹنگ کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ عوامی رائے جمع کرنے والے ادارے زوگبی انٹرنیشنل کے ایک سروے کے مطابق چھہتر فیصد سنی عرب ووٹ نہیں دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں جبکہ صرف نو فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ووٹ دینے جائیں گے۔

اتوار کی ووٹنگ کے لئے آٹھ سو اٹھائیس بین الاقوامی نگراں کام کررہے ہیں جن میں بیشتر عراق میں غیرملکی سفارت خانوں کے اہلکار شامل ہیں۔ چھ ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنوں پر لگ بھگ اٹھائیس ہزار ووٹنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جن کے بارے میں ووٹروں کو سکیورٹی کے خدشات کے مدنظر تفصیلات پہلے سے نہیں بتائی گئی ہیں۔

اتوار کی ووٹنگ کے ذریعے عراقی ووٹر دو سو پچہتر رکنی عبوری قومی اسمبلی منتخب کریں گے جو ملک کے نئے آئین کا مسودہ تیار کرے گی۔ اسمبلی کے ارکان وزیراعظم، دو نائب صدور اور صدر کا انتخاب کرسکیں گے۔

ان انتخابات میں بیرون ممالک مقیم عراقی بھی حصہ لے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے چودہ ممالک میں مقیم تقریباً دو لاکھ اسی ہزار باشندوں نے ووٹنگ کے لیے اندراج کروایا ہے۔ سب سے پہلے آسٹریلیا میں رہنے والے جلاوطن عراقیوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا جہاں تقریباً بارہ ہزار عراقیوں نے ووٹنگ کے لیے اندراج کرایا ہے۔

دیگر اطلاعات میں:

٭ جنوبی شہر بصرہ میں برطانوی فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پرتشدد کارروائیوں کی تیاری کرنے کے شبہے میں کئی افراد کو گرفتار کیا ہے اور گولہ بارود برآمد کیا ہے۔

٭ بی بی سی کو عراقی وزارت صحت سے ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی لگ بھگ ساٹھ فیصد اکثریت اتحادی اور عراقی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئی ہے۔

٭ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ابو مصعب الزرقاوی کے تین اعلیٰ مشیروں کو گرفتار کرلیا ہے جن میں سے ایک بغداد میں مزاحمت کاروں کا کمانڈر تھا۔

٭ ابو مصعب الزرقاوی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے عبوری وزیراعظم ایاد علاوی کی جماعت کے ایک امیدوار کو ہلاک کردیا ہے جس کی وڈیو بعد میں انٹرنیٹ پر شائع کی جائے گی۔

٭سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں امریکہ سے اپیل کی ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو عراقی معاملات میں ’غیرضروری مداخلت‘ بند کرے۔

عراقتشدد کے سائے میں
انتخابی تیاریاں اور تشدد کے واقعات ساتھ ساتھ
عراق: کون کیا ہے؟
عراق کا نیا سیاسی ڈھانچہ کئی گروہوں کا مجموعہ
ای سروے کےنتائج
عراقی انتخابات کی جانب مایوس کن ردعمل
عراقعراق کےحساس علاقے
عراق کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی نقشہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد