عراق میں استحکام اور عراقی ووٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی انتخابات میں حصہ لینے والے ایک امیدوار کے مطابق وہ صرف اپنے صدر دفاتر کے قریبی علاقوں میں ہی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امیدواروں میں سے کوئی بھی کھل کر سامنے نہیں آتا کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو قتل کر دیئے جائیں گے۔ ہمیں معمول کے مطابق انتخابی مہم چلانے والا کوئی امیدوار ڈھونڈنے میں ایک پورا دن لگ گیا۔ ان حالات میں ایک عراقی سیاست دان کے بیان پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ یہ ملک کی تاریخ کے پہلے خفیہ انتخابات ہوں گے۔ لیکن ہم جس سیاسی پارٹی (عراقی نیشنل یونٹی کوآلیشن) کی بات کر رہے ہیں وہ صدام حسین کے دور حکومت میں ایک ممنوعہ تنظیم تھی جس کے پچپن ارکان کو پھانسی کے تختے پر چڑھا دیا گیا تھا۔ عراقی شیعہ ہر طرح کے انتخابات میں حصہ لینے پر خوش ہیں باوجود اس کے کہ انہیں انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے مسلح محافظوں کی خدمات سر حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والے ایک اور امیدوار، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے عبیر السہلانی، کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے سلسلے میں وہ کبھی بھی صبح دس بجے سے پہلے گھر سے نہیں نکلتے کیونکہ زیادہ تر بم دھماکے دس بجے سے پہلے ہوتے ہیں۔ ’ہمیں باہر نکلنے اور لوگوں سے ملنے کے لیے نئے نئے طریقے ڈھونڈنا پڑتے ہیں۔‘
کاروں کی ایک لمبی قطار ہے جس نے ٹریفک کو بند کیا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں ڈرائیوروں کی تو تو میں میں ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے پر مُکے تان لیتے ہیں۔ وہاں کھڑا پولیس والا ان میں بیچ بچاؤ کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ ان میں سے ایک گاڑی والا ہماری طرف متوجہ ہوتا ہے۔ ’جب عام استعمام کی اشیا کی عدم دستیابی نے زندگی کو مشکل بنا رکھا ہو تو ان حالات میں انتخابات کے کیا معنی؟‘ تاہم وہاں موجود افراد میں کچھ ایسے بھی تپے جن کے خیال میں نئی حکومت حالات میں بہتری لا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ ڈالیں گے۔ زیادہ تر شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شیعہ رہنما آیت اللہ علی سیستانی کے حکم کے تحت بیلٹ پیپر پر ایک سو انہتر نمبر کا انتخاب کیا ہے۔ شیعوں کا خیال ہے کہ کئی دہائیوں پر محیط سُنی اقتدار کے بعد اب حکومت کرنے کی ان کی باری ہے۔ اس کے برعکس سُنی علاقوں میں تشدد اور انتخابات سے لاتعلقی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ بغداد کے ایک سُنی علاقے میں سے گزرتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ وہاں نہ تو پوسٹر لگے ہوئے ہیں اور نہ ہی انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔ ہم وہاں کسی سے بات اس لیے نہیں کر پائے کیونکہ وہاں غیر ملکی صحافیوں کے اغواء کا خطرہ ہوتا ہے۔ القاعدہ رہنما ابومصعب الزرقاوی نے انتخابی عمل کی مذمت کی ہے اور اسے اقتدار شیعوں کو منقل کرنے کی ایک سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انتخابی میں حصہ لینے والے ہر شخص کو کافر سمجھا جائے اور قتل کر دیا جائے گا۔ بغداد کے ایک علاقے میں ہم نہ سُنی ہتھیار بندوں کو ایسے اشتہار تقسیم کرنے دیکھا جن میں انتخابات میں حصہ لینے والوں کا خون بغداد کی گلیوں میں بہا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔ الزرقاوی اور ان کے حامی سُنی ہیں جو شیعوں کے اقتدار کے سخت مخالف ہیں۔ اگر وہ سُنی آبادی اس بات کا قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ ان کی موقف درست ہے تو اس صورت میں عراق انتخابات کے بعد خانہ جنگی کی طرف جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ عراق میں سیاسی استحکام کا انحصار اس بات پر ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی حکومت اقتدار کے محروم سُنی آبادی کے لیےفراخ دلی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||