BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 28 January, 2005, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی انتخابات سے آپ کی امیدیں
عراق کے اٹھارہ میں سے چار صوبوں میں تشدد زور پر ہے
عراق کے اٹھارہ میں سے چار صوبوں میں تشدد زور پر ہے
عراق میں اتوار کے انتحابات کے لیے بیرونِ عراق جلا وطنوں کی ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ عراقیوں میں سب سے پہلے حقِ رائے دہی آسٹریلیا میں رہنے والے جلاوطن عراقیوں نے استعمال کیا۔ بیرونِ عراق تیرہ ممالک میں رہنے والے عراقی حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

انتخابات کے نگران ادارے نے مختلف صوبوں میں بیلٹ باکس بھیجنے شروع کردیے ہیں جو انتہائی سخت حفاظت میں مختلف پولنگ سٹیشنوں کوبھیجے جا رہے ہیں تاہم ابھی یہ نہیں بتایا جا رہا کہ یہ پولنگ سٹیشن کہاں کہاں قائم کیے جائیں گے۔

عراق میں تشدد کے واقعات جاری ہیں اور پچھلے چند دنوں میں کئی درجن افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ تشدد کے زیادہ تر واقعات عراق کے سنی علاقوں میں ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران روزانہ سو حملے ریکارڈ کیے گئے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کئی جگہ ان مقامات کوبھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں ممکنہ پولنگ سٹیشن تصور کیا جا سکتا ہے۔

عراقی انتخابات سے آپ کو کیا امیدیں ہیں؟ کیا ان انتخابات کے لیے کیے جانے والے حفاظتی انظامات کافی ہیں؟ کیا عراقی ان انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں گے؟ انتخابات میں ووٹ نہ ڈالنے سے کس کو فائدہ پہنچے گا؟ اپنی آراء ہمیں لکھ بھیجیں۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، آپ کی آراء نیچے درج ہیں۔

سید تمیم، لاہور:
یہ بھی عجیب انتخابات ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ امیدوار کون ہے، کس کو ووٹ دیں، ووٹ دینے کے لئے کہاں جائیں۔ اور ہزاروں بین الاقوامی نگران ووٹنگ کی مانیٹرنگ کے لئے موجود ہیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
پہلے عراق کو آزاد کریں۔ عراقی بےچارے صدام کی غلامی کے بعد اب امریکہ کی غلامی میں ہیں۔ الیکشن تو آزاد قوموں کے ہوتے ہیں، غلام قوموں کے نہیں۔

محسن بلوچ، کراچی:
یہ کوئی الیکشن تو نہیں، سب ڈرامہ ہے۔ یہاں پر امریکہ جسے چاہے گا وہی پریسیڈنٹ بنے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ الیکشن کے بعد عراق کے حالات خراب ہوں گے۔

نوید نقوی، کراچی:
ارے بھائی سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہے کہ انتخابات کرانے والے لوگ کون ہیں اور جس طرح سے وہ لوگ عراق میں آئے ہیں تو انتخابات بھی اسی طریقے سے کرائیں گے اور میرا نہیں خیال کہ عراقی اتنے بیوقوف ہوں گے جن کے خلاف وہ لڑرہے ہیں ان کے ہی کرائے جانے والے ڈرامے میں مرکزی رول ادا کریں گے۔

تشدد کے خلاف ووٹنگ
 ووٹنگ کا مطلب تشدد کے خلاف ووٹنگ ہے۔ اس کا مطلب دہشت گردی کے خلاف ووٹنگ ہے۔ اس کا مطلب آزاد اور جمہوری عراق کے حق میں ووٹنگ ہے۔
احمد موساوی، لندن

احمد موساوی، لندن:
ووٹنگ کا مطلب تشدد کے خلاف ووٹنگ ہے۔ اس کا مطلب دہشت گردی کے خلاف ووٹنگ ہے۔ اس کا مطلب آزاد اور جمہوری عراق کے حق میں ووٹنگ ہے۔ ووٹنگ کا یہ عمل شاید منصفانہ نہ ہو، چاہے اس ووٹ سے کوئی ایک جماعت جیتے یا نہ جیتے، تمام ووٹ امن اور جمہوریت کے لئے اہم ثابت ہوں گے۔ اگر آپ تشدد کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ووٹ ضرور دیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ فوری طور پر کامیاب نہ ہو، لیکن دس سال کے اندر کامیاب ثابت ضرور ہوگا۔

ڈاکٹر نعیم میمن، امریکہ:
میں امید کرتا ہوں کہ یہ عراق کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جب مغربی ممالک کے کٹھ پتلی حکمرانوں کی بجائے آزاد اور خودمختار رہنما منظر عام پر آئیں گے۔

وِن، امریکہ:
کچھ تشدد ہوگا لیکن انتخابات طےشدہ پروگرام کے مطابق ہوں گے۔ جب یہ مکمل ہوگا تب دہشت گردوں کو احساس ہوگا کہ ان کی کوششیں عراقیوں کی اکثریت کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکی۔

شاہد شاہ کرمانی، لاہور:
تلواروں کے سائے میں الیکشن سے کیا امید ہوسکتی ہے۔ عراقی عوام شاید ڈر کی وجہ سے بھی الیکنش میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ جب فضا میں امریکہ اور اتحادیوں کے جہاز ہوں اور زمین پر بھی اٹیک کا خطرہ ہو تو بھلا کون الیکشن میں ووٹ ڈالنے جائے گا۔۔۔۔۔

عادل، بغداد:
کیا ہم دہشت گردوں کو کامیاب ہوجانے دیں ؟ تاکہ وہ عراق کو صدام کے دور سے بھی برے حالات میں دھکیل دیں؟ کیا ہم صحیح میں گلا کاٹنے والے شخص کو اپنے ملک پر حکومت کرنے دیں؟ یا ہم تعلیم یافتہ لوگوں کو ملک کا حکمران بنائیں؟ پلیز ووٹ ڈالیں تاکہ اس بیماری کا ہم عراق سے خاتمہ کرسکیں۔

نِک، آسٹریلیا:
میں امید کرتا ہوں کہ یہ حالات خانہ جنگی میں نہ تبدیل ہوجائیں۔

طارق جاوید، لندن:
یہ تو سیدھی سی بات ہے کہ اپنے مقصد کے حصول تک امریکہ عراق تو چھوڑے گا نہیں، مزید رسوائی کے ڈر سے ابھی سے اپنے بندوقوں کے لئے کندھا درکار ہے۔ الیکشن اسی سمت میں ایک قدم ہے تاکہ متوقع کٹھ پتلی حکومت کے مطالبے پر اپنے قیام کو طول دیا جائے اور اپنی کارروائیوں کو ان کی پشت پر رہ کر پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔۔۔۔۔

عفاف اظہر، ٹورنٹو:
عراقی انتخابات سے کیا امید ہوسکتی ہے جب وہ افغانستان کی طرح امریکہ کے ہاتھوں میں ایک کھلونا بنا ہوا ہے۔

عراق کے اصل دشمن
 فی الحال تو انتخابات ہی لوگوں کی آواز عالمی فورم تک پہنچانے کا واحد طریقہ ہیں اور جو تشدد کے ذریعے انتخابات روکنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ دراصل عراق کے اصل دشمن ہیں۔
سید احمد، برطانیہ

سید احمد، برطانیہ:
میرا خیال ہے کہ انتخابات عراق میں ایک قانونی حکومت کے قیام کا سب سے بڑا موقعہ ہیں۔ اس سے ایک حکومت اور آئین کے لیے راہ ہموار ہوگی۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ذریعے امریکہ کی عراق میں موجودگی کا قانونی جواز پیدا ہوگا ایک حد تک غلط سمت میں سوچ رہے ہیں۔ فی الحال تو انتخابات ہی لوگوں کی آواز عالمی فورم تک پہنچانے کا واحد طریقہ ہیں اور جو تشدد کے ذریعے انتخابات روکنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ دراصل عراق کے اصل دشمن ہیں۔

وقاص قاسم، لاہور:
عراقی انتخابات کا نتیجہ بربادی ہوگا۔

ہلال باری، لاہورنٹو:
ارے بھائی، بی بی سی کے کسی رپورٹر کو ابوغریب جیل جانے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا ہے تبھی آپ اس کے بارے میں رائے پوچھ رہے ہیں۔

نثار علی، ٹورنٹو:
اگرچہ امریکہ عراق کے معاملے میں مخلص نہیں ہے اور صرف اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے تاہم دوسری طرف ہمیشہ دبائے جانے والے اہلِ تشیعہ کو پہلی بار موقعہ مل رہا ہے کہ وہ اپنا حق حاصل کرسکیں۔

افتخار احمد، لاہور:
جب تک امریکی فوج عراق میں موجود ہے، امن ممکن نہیں۔

نبیل عامر، کیلیفورنیا:
یہ ووٹنگ تو صرف رسمی ہے۔ انتخابات کی انجنئیرنگ ہوگی۔ ایک اور کرزئی بٹھا دیا جائے گا اور اس رسم کو پورا کرنے کے دوران تشدد سے ناحق لوگ مارے جائیں گے۔

فیصل جاوید، کراچی:
جناب، یہ انتخابات نہیں بلکہ کسی امریکی کٹھ پتلی کو منتخب کروانے کی سازش ہے۔ لوگ انتخابات میں حصہ کیوں لیں گے جب وہ امریکہ کے مظالم کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے ہیں۔

اسامہ جونیئر
 عوام کو ہر حال میں انتحابات میں حصہ لینا چاہیے اور اسامہ جونیئر (الزرقاوی) جیسے لوگوں کے داؤ میں نہیں آنا چاہیے۔
محسن رضا، سعودی عرب

محسن رضا، سعودی عرب:
دراصل امریکہ حود عراق میں شفاف انتخابات نہیں چاہتا۔ امریکہ اور برطانیہ کی چنی ہوئی حکومت خود ایسے بیان جاری کررہی ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ لوگوں کو انتخابات سے ڈرانا چاہتے ہیں۔ ایسے واقعات بڑھ گئے ہیں جن میں عام اور معصوم لوگ مررہے ہیں۔ امریکہ دنیا کی توجہ ہٹا کر اپنی کٹھ پتلی حکومت قایم کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ عراق کی جنگ میں اتنا پیسہ لگانے کے بعد وہ اتنی اسانی سے تو وہاں سے جانے والا نہیں۔ اپنی موجودگی کا جواز بھی پیدا کرنا ہے۔ عوام کو ہر حال میں انتحابات میں حصہ لینا چاہیے اور اسامہ جونیئر (الزرقاوی) جیسے لوگوں کے داؤ میں نہیں آنا چاہیے۔

ایمن سہیل، ٹورنٹو:
جناب آپ جب کسی کے گھر پر زبردستی جا کر قبضہ کرلیں اور اپنی مرضی ان پر صادر کرنا چاہیں تو وہ بے چارے حملے نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟

جبران خلیل، لاہور:
جناب، آپ بی بی سی والے ہم بے چاروں سے وہ سوال کیوں پوچھتے ہیں جن کا جواب آپ ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ عراق میں جب تک میاں بش کی لالچ پوری نہیں ہوتی یہ سب ہوتا ہی رہے گا۔

کرن جبران، واٹرلو:
عراق میں جو بھی ہورہا ہے وہ بش صاحب کی مرضی سے ہورہا ہے۔ اب آپ کے سوال کا جواب بھی وہ ہی دے سکتے ہیں کیونکہ یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ بلکہ ہوسکے تو آپ بی بی سی والے ہی یہ ان سے پوچھ لیں کہ ان کی پیاس ابھی اور کتنی باقی ہے؟

عراقتشدد کے سائے میں
انتخابی تیاریاں اور تشدد کے واقعات ساتھ ساتھ
امریکی افواج کو عراق میں مزید قیام کرنا چاہئے؟ عراق: نئے حربے
نئے امریکی حربے کارگر ہوں گے؟ آپ کی رائے
کیا عراق میں خانہ جنگی پھیل رہی ہے؟ کھلی حانہ جنگی؟
کیا عراق میں خانہ جنگی پھیل رہی ہے؟ آپ کی رائے
عراقی قیدیوں سے امریکی فوجیوں کی بدسلوکی عراقی کیا کہتے ہیں
عراقی قیدیوں سے امریکی فوجیوں کی بدسلوکی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد