عراق: نئی حکومت امن لا سکےگی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ اس کے نئے عبوری صدر غازی یاور ہیں جو سنی ہیں اور ایک بڑے قبیلے کے سربراہ ہیں۔ نئی عبوری حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری اگلے سال جنوری تک ملک کو نئے انتخابات کے لیے تیار کرنا ہے۔ آپ کی رائے میں کیا یہ عراق میں جمہوریت کا آغاز ہے؟ کیا نئی عبوری حکومت عراق میں امن قائم کرسکے گی؟ کیا اس کے نتیجے میں غیر ملکی فوج کو باعزت طور پر نکل سکنے کا بہانہ ملے گا؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: کٹھ پتلیوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے جن کی ڈوریں امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھ میں ہوں۔
صائمہ خان، کراچی، پاکستان: اگر قبضہ کرنے والی افواج کے نامزد کردہ لوگ اپنے آقاؤں کی جگہ واقعی اپنی عوام سے مخلص ہونے لگ جائیں شاید آمرانہ اقتدار میں رہنے والی تمام ریاستوں کے عوام امریکہ کو درخواست کریں گے کہ وہ ان کے ملک میں آجائے۔ یہ کتنا آسان طریقہ ہوگا جمہوریت لانے کا۔ نسیم واحد، ملتان، پاکستان: مجھے نہیں لگتا کہ یہ حکومت کچھ کرسکتی ہے۔ جب تک امریکی وہاں ہیں، امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ہارون شیخ، کراچی، پاکستان: نئی حکومت کے کام کرنے کی کم ہی امید ہے۔ جب تک غیر مللکی فوج نہیں جاتی قتلِ عام ہوتا رہے گا اور برطانیہ اور امریکہ کی کی ہوئی غلطی کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا ہوگا۔ عراقی مسئلے کا حل اب شاید کسی کے پاس نہیں۔ اگر جمہوریت آتی ہے تو شیعہ حکومت ہوگی جو سنیوں اور امریکہ کو قبول نہیں۔ اگر سنی حکومت کرتے ہیں تو شیعہ دنگے کریں گے، عراق بالکل بربادی کی دہلیز پر ہے۔ پرویز بلوچ، بحرین: پہلے صدام کی جمہوریت چلتی تھی اب امریکہ کی چلے گی۔ امریکی فوج بے عزت ہوکر باعزت طور پر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ محمود عقیل، شکاگو، پاکستان: مشکل ہی ہے۔ انور علی، مونٹریال، کینیڈا: نہیں، کبھی نہیں، کیونکہ یہ امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہی ہے۔ عراقی قیدیوں پر امریکی ٹارچر کی تصویریں پوری دنیا دیکھ چکی۔ یہ ان لوگوں نے کیا ہے جو انسانی حقوق کے احترام کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔ اب ان کی کیا عزت رہی۔ یہ طاقت سے تو حکومت کرسکتے ہیں لیکن دلوں پر نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ امریکی جنگ کو ہی ہر چیز کا حل کیوں سمجھتے ہیں؟ فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: ان لوگوں کو حکومت میں لایا گیا ہے جو ساری زندگی عراق سے دور رہے۔ ان سے عراقی عوام کیا توقع کر سکتی ہے؟ یاسر، میرپور، پاکستان: یہ امریکہ کے لئے، امریکہ کے ذریعے، امریکہ کی کومت ہے۔ سعید بٹ، لاہور، پاکستان: اگر افغانستان میں کرزئی امن قائم کر پائیں ہیں تو عراق میں بھی ہوجائے گا۔ امریکی فوج کو اب ہر حال میں عراق سے نکلنا ہے، خواہ وہ عزت سے ہو یا کسی دوسری طرح۔ باقی ویتنام اور صومالیہ تو سب کو یاد ہی ہیں۔ شعبان علی، پاراچنار، پاکستان: جی ہاں، اگر امریکہ اور دوسروں کے مداخلت کے بغیر یہ حکومت چلی اور امریکہ نے اکثریتی شیعہ کی مرضی کا احترام کیا اور انہیں سنی اقلیت اور کردوں کے ساتھ مل کر عراق کو ایک خود مختار ریاست کے طور پر خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے دیا۔ خلیل اخون، بہاولنگر، پاکستان: کوئی فائدہ نہیں، یہ کابینہ امریکہ کی بنائی ہوئی ہے، یہ اسی کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔
عبدالغفور، ٹورنٹو، کینیڈا: عراقی معاشرے کے مذہبی اور قومی توازن کا احترام کرتے ہوئے صدر کے لئے سنی اور وزیرِ اعظم کے لئے شیعہ کا انتخاب ایک اچھی حکمتِ عملی ہے لیکن میں علاوی کے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لئے انتخاب سے اتفاق نہیں کرتا۔ وہ وزیرِ اعظم سے زیادہ ایک کٹھ پتلی ہی ثابت ہوں گے۔ ان کی مقبولیت کی کمی اور عراق میں انہیں سی آئی اے کے ایجنٹ کے طور پر دیکھا جانا عراق میں جمہوریت کی تعمیر کے لئے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مفتیِ اعظم آیت اللہ سیستانی زیادہ بہتر انتخاب ہوتے کہ وہ عراق کے مقبول ترین رہنما ہیں۔ واجد علی خان، ٹورنٹو، کینیڈا: میرا نہیں خیال کہ اس سے کوئی بھی تبدیلی آئے گی کیونکہ عراق اور دنیا بھر کے عوام جانتے ہیں کہ یہ حکومت کس حد تک مقبول ہو سکے گی۔ امریکیوں نے یہی ہتھکنڈے ویتنام اور حال میں افغانستان میں بھی استعمال کئے ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہی عراق میں ہوگا۔ عراقی پوری امتِ مسلمہ کے لئے لڑ رہے ہیں کیونکہ عراق کے بعد ایران اور پھر شام کی باری ہے۔ عبدالمنیب، جرمنی: آج کل دو نمبر انسان بنائے جا سکتے ہیں تو دو نمبر حکومت کیوں نہیں بنائی جا سکتی؟ بانا، برطانیہ: مجھے ملک کی اس نئی حکومت سے ہمدردی ہے جس ملک کے معاملات میں کچھ اختیار حاصل نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ نئی حکومت مکمل طور پر امریکہ انکل سام کی ہدایات پر چلے گی اور اسے عراق میں جمہوریت آنے کے بارے میں کوئی امیدیں نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ پوری دنیا اور خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ مذاق ہے۔ یہ سب دنیا بھر کے تیل کو مکمل طور پر قابو کرنےاور اسرائیل کو بچانے کی کوشش ہے۔ ہدایت شاہ، پشاور یونیورسٹی، پاکستان: نہیں ناممکن، جب تک امریکہ ختم نہیں ہوگا، امن کبھی نہیں آئے گا۔ خالد محمود، ہملٹن، کینیڈا: معظم شہزاد، جنوبی کوریا: امریکہ کے ہوتے ہوئے عراق میں امن ناممکن ہے۔ عابد عزیز، ملتان، پاکستان: قابض فوجوں کے ساتھ عراق میں امن قائم کرنا ناممکن ہے۔
شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات: اس کابینہ کے حلف اٹھانے والے کون لوگ ہیں، سب کو علم ہے۔ سوال یہ ہے کہ یاور صاحب کی ڈوریں جن کے ہاتھ میں ہیں، وہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ باقی رہی بات جنوری تک انتخابات کے لئے تیار کرنے کی تو وہ بھی ہو جائے گا۔ جس طرح قتلِ عام ہورہا ہے، جو بچ جائیں گے ان میں اتنی سکت ہی نہیں ہوگی سو جو چاہے کرو۔ عراق میں جمہوریت؟ کیا مذاق ہے، آج کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔ دنیا کو دھوکہ دینے کے بہت طریقے ہوتے ہیں اور یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ کاظم نقوی، ساؤ پالو، برازیل: ہاں، شاید یہ ممکن ہے اہم بات ہوگی عبوری حکومت کا کردار۔ اگر یہ تمام گروہوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ایسا ممکن ہوگا۔ دوسری اہم بات امریکی فوجوں کا انخلاء ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ان کی موجودگی میں امن قائم ہوسکے گا۔ غلام فرید شیخ، سندھ، پاکستان: یہ حکومت تو ایسی ہی ہوگی جیسی افغانستان کی ہے۔ یہ پٹھو حکومت ہوگی۔ بھیک مانگنے والے کیا کچھ کر کے دکھائیں گے۔ راحت ملک، راوالپنڈی، پاکستان: میں بالکل نہیں سمجھتا کہ حالات ٹھیک ہو پائیں گے۔ جس طرح کے حالات عراق میں ہیں اس کے لئے قربانی کے لئے جو بکرے تیار کئے جا رہے ہیں شاید ان کوکوئی موقعہ ہی نہ دے۔ جاوید، سرائے عالمگیر، پاکستان: جی ہاں محمد شفاعت، قم، ایران: جی یہ امریکی جمہوریت ہوسکتی ہے لیکن صحیح معنوں میں جمہوریت عوام کی منتخبہ حکومت کو کہتے ہیں۔ اقبال احمد، میلانو، اٹلی: عراق میں امن کی ضمانت صرف سو فیصد عوامی رائے سے قائم ایسی حکومت کے قیام سے ہی دی جا سکتی ہے جس کی دسترس میں عراقی وسائل ہوں اور یہ وہ بات ہے جو ناممکن ہے کیونکہ یہ سب کرنے کے لئے امریکہ کو کیا پڑی تھی کہ وہ اپنے اربوں ڈالر ضائع کرتا۔ فرخ مسعود، لاہور، پاکستان: میرے خیال میں یہ امریکہ و برطانیہ کی اپنی جان بچانے کی ضرورت ہے۔ ان کے جتنے فوجی مارے جا رہے ہیں ان کو نکلنے کا کوئی تو راستہ چاہئے۔ نئی حکومت امن قائم نہیں کر سکتی کیونکہ عوام ان سب لوگوں کے خلاف ہیں جو ان کے ملک اور دولت پر قابض ہیں اور ان کا خون بہا رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||