عراقی قیدیوں سے بدسلوکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذرائع ابلاغ نے گزشتہ دنوں میں ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں امریکی فوجیوں کو عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان تصاویر پر دنیا بھر میں غصے کا اظہار کیا گیا ہے اور امریکی فوجیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی مِرر نے بھی کچھ ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں بظاہر برطانوی فوجی عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کررہے ہیں۔ امریکی اور برطانوی حکومتوں پر روزانہ دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ صدر جارج بش نے امریکی سرپرستی میں چلنے والے الحرہ ٹیلی ویژن اور العربیہ پر ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات کو قابلِ نفرت سمجھتے ہیں۔ امریکی صدر عربی زبان کے ٹیلی ویژن پر اس لیے آئے ہیں کہ عربوں کی دلجوئی کر سکیں اور ان میں پائی جانے والی اس ناراضگی کا کچھ ازالہ کر سکیں جو مذکورہ بد سلوکی کی تصاویر اور خبریں سامنے آنے سے پیدا ہوئی ہے۔ عراق میں فوجی جیلوں کے امریکی انچارج جنرل جیفری مِلر نے کہا کہ وہ عراقی عوام سے بذات خود امریکی فوجیوں کی جانب سے کی جانیوالی زیادتیوں کی معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ دونوں حکومتوں نے سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے، دونوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اکا دکا ہیں، اور یہ واقعات امریکی اور برطانوی فوجیوں کے عمومی کردار کی عکاسی نہیں کرتے۔ جبکہ حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات صرف عراق ہی نہیں بلکہ گوانتانامو بے اور افغانستان میں بھی ہورہے ہیں۔ حقوق انسانی، یہ تصاویر اور عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کے بارے میں آپ کا کیا ردعمل ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں امتیاز احمد، سعودی عرب: ظلم ہمیشہ کمزوروں پر ہی کیا جاتا ہے۔ دکھ کا احساس اس کو ہوتا ہے جس پر ظلم ہوتا ہے، کسی فیملی ممبر، یا کسی قوم پر یا کسی ملک پر۔ بات ایک ہی ہے دنیا کا ہر مذہب انسانیت کی قدر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ تو کہاں گئی انسانیت؟ بش کی انسانیت؟ شاہدہ خان، لندن: یہ تصویریں دیکھ کر خدا سے میرا ایمان اٹھ گیا ہے۔ غلام فرید شیخ، پاکستان: جب الجزیرہ نے ان کے فوجیوں کی لاشیں دکھائی تھیں تو امریکہ رو رہا تھا۔۔۔ یہ پوری دنیا جانتی ہے۔ اب کیا اور کہا جائے؟ ابن اقبال، ڈلاس: ابوغریب میں جو کچھ ہوا وہ بلا شبہہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر ایک سخت دباؤ ثابت ہوگا۔ یہ غیرانسانی فعل تھا، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن جو بات باعث شرم ہے وہ یہ بھی ہے کہ عرب اور مسلم سوسائٹی کی ہیپاکریسی واضح ہوگئی ہے۔ محمد نشات کھوسو، پاکستان: داد تو میں اس ادارے کو دوں گا جس نے یہ تصویریں پوری دنیا کو دکھا دیں، یہ ثابت کردیا کہ کچھ صحافی باقی ہیں دنیا میں جو سچائی کو کبھی نہیں چھپائیں گے۔ محمد اعجاز کلیم، فیصل آباد: یہ تصاویر امریکی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ علی عباس نقوی، لاہور: جب مسلمان سُشمیتا اور ملائکہ کی ڈانس دیکھ رہے ہونگے اور پاکستان اور انڈیا کو ایک ملک بنانے کی باتیں ہورہی ہونگی تو مسلمانوں کو یہی تصویریں دیکھنے کو ملیں گی۔ کاش کہ پاکستان کی آرمی نے امریکہ سے لڑنے والے مجاہدوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے مسلمان عراقی بھائیوں کے بارے میں سوچا ہوتا۔ شہباز محمد دین، لاہور: امریکہ خود کو جہہموریت کا بہت بڑا علمبردار کہتا ہے اور یہ سب کے سامنے ہے کہ کیا ہورہا ہے۔ امریکہ نے بغیر کسی وجہ کہ عراق اور افغانستان پر جنگ مسلط کردی ہے۔
جمال شاہ، ٹورانٹو: امریکیوں نے جو ظلم کیا ہے اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔ لیکن کیا کریں؟ اگر یہ امریکی قیدی ہوتے تو اب تک امریکہ کو جنیوا کنوینش یاد آجاتا۔ وہ تو تب بھی یاد آیا تھا جب چند امریکی فوجیوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ صدر بش نے عرب ٹیلی ویژن پر آکر کون سا بڑا کام کردیا ہے؟ عراقی قیدیوں کے بارے میں جنیوا کنوینش کی بات کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ شیری صدیقی، لندن: یہ امریکی اور برطانوی فوجیوں کا سفاکانہ سلوک ہے۔ انشاء اللہ عراقی لوگ اس کا بدلہ لیں گے۔ اسد احمد، کویت: اتنا کچھ دیکھنے کے بعد مسلم حکمران کہاں سوئے ہوئے ہیں؟ جاوید انجم، ملیشیا: مجھے لگتا ہے کہ یہ امریکہ کی جانب سے لوگوں کو ایک واررنِنگ تھی۔ اصغر خان، چین: صدر بش اور ٹونی بلیئر کو کیا پتہ کہ ان کے ساتھ ظلم ہوچکا یا اب بھی ہورہا ہے۔ یہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ہمیشہ دوسرے ملکوں کے انسانی حقوق کے بات کرتے ہیں، جبکہ خود ان کے فوجیوں ۔۔۔۔ ضیاء القمر، سوابی، پاکستان: ایک ایسے ملک سے جو خود کو دنیا میں سب سے اہم جمہوریت قرار دیتا ہے اس طرح کی بات سن کر دکھ ہوا۔ ندیم ملک، کینیڈا: ٹھیک ہے، جو کچھ ہوا ہوگیا، لیکن سنجیدگی سے سوچیں کہ کیا ہم مسلم ممالک نے کوئی سبق سیکھا ہے؟ چلئے کچھ سبق سیکھیں اور اسلامی ملکوں کے جیلوں میں قیدیوں کے حالات بہتر کریں۔ نور الحق، سرحد: یہ امریکی عوام کے لئے مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں۔
غالب بریالائی، کوئٹہ: نہایت برا کام ہوا ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ تاریخ کبھی بھی ان کو معاف نہیں کرے گی۔ پاکستانی فوج نے جو ظلم مشرقی پاکستان میں کیا تھا اس کی یاد تازہ ہوگئی۔ اگر ہم سب اس وقت ان فوجیوں کے خلاف اقدامات کرتے تو تاریخ ہمیں اچھے لفظوں میں یاد کرتی۔ امریکی حکومت کو انتہائی سخت اقدام کرنا چاہئے تاکہ کل کوئی دوسرا ایسا نہ کرسکے۔ حمید اللہ شاہ، پاکستان: ہم لوگوں کے لئے یہ بڑے دکھ کی بات ہے۔ سعید کھٹک، نوسہرہ: امریکی جو نام نہاد امن کا ٹھیکیدار بنا ہوا ہے اس کا اصل روپ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ کتنے ظالم لوگ ہیں اور مسلمانوں سے ان کی نفرت کتنی ہے۔ ایسی حرکت تو وحشی درندے بھی نہیں کرتے۔ محمد ارشد، کراچی: دنیا کو تباہ کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ شیطان کے وارث جھوٹ اور ظلم کا سہارا لیتے ہیں۔ محمد قمر شبیر، اسلام آباد: میں امریکی اور برطانوی حکمرانوں کے خیالات جاننا چاہوں گا۔ ان کا ردعمل کیا ہوگا اگر ایسا کچھ ان کے قیدیوں کے ساتھ کیا جائے؟ مجھے یقین ہے کہ وہ سخت اقدامات اٹھاتے۔ سرمد بزمی، لاہور: اقوام متحدہ اور تہذیب یافتہ دنیا کے رہنماؤں کے لئے یہ باعث شرم ہے۔ جارج بش اور ٹونی بلیئر فوری طور پر استعفی دیں۔ نومی خان، حیدرآباد: ڈیئر ایڈیٹر، بات دراصل یہ ہے کہ ہم مسلم ہیں اسی سلوک کے قابل۔ ہم نے اللہ کے بتائے ہوئے راستوں کو چھوڑ کر عیش کی زندگی کو ترجیح دی ہے، تو ایسا ہونا ہی ہے۔ احمد حسرت، پاکستان: یہ ناانصافی ہے اور امریکی صدر کے لئے باعث شرم۔ میری دنیا سے گزارش ہے کہ امریکی فوج کے اس رویے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ مسعود شاہ، پشاور: ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، یہ عراقی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہم امریکی فوجیوں کا قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن مجبور ہیں کیونکہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جس کے رہنما اندھے ہیں۔ لیکن خدا بہتر جانتا ہے۔۔۔۔ صلاح الدین، امریکہ: میں یہی کہنا چاہوں گا کہ کروسیڈر وہی کررہے ہیں جس کے لئے وہ عراق میں آئے تھے۔ خطا مسلمانوں کی ہے کہ انہیں جو کرنا چاہئے وہ نہیں کررہے ہیں: جہاد۔ موسیٰ خان، پشاور: یہ تہذیب یافتہ امریکی لوگوں کے ذہنوں کی پرچھائی ہے۔ کمال شفیق، لاہور: ہمارے خیال میں امریکہ اچھا نہیں کررہا ہے اور جو تصاویر ہیں وہ تمام حقیقت ہیں۔ اور اب یہ سب دیکھنے کے بعد امریکہ مسلمانوں کا کھلا دشمن نظر آتا ہے۔ اب جہاد کا وقت قریب ہے۔
راحت ملک، پاکستان: یہ سراسر ظلم ہے جو امریکہ کی فوج کررہی ہے اور انسانیت پر ظلم ہے۔ اس دور میں مگر سوچنا یہ چاہئے کہ تاریخ کن الفاظ میں ان حکمرانوں کو یاد کرے گی، اچھے یا برے الفاظ میں؟ یہ ممالک تو انسانیت کی ہمدردی کا پرچار کرتے رہتے ہیں، اللہ ان کو ہدایت دے۔ آمین! ساجد میر، چکوال، پاکستان: میرے خیال میں امریکہ صرف اپنے عوام کے حقوق کا علمبردار ہے، کسی اور ملک کے عوام کو وہ انسان نہیں سمجھتا، اس طرح دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی۔ میاں عقیب، امریکہ: نئے تہذیب یافتہ دور کا آغاز ہورہا ہے! آمنہ مریم، راولپنڈی: پہلے تو ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ یہ سب کیا ہے، کیا مسلمانوں کو قتل ہوتا ہوا ہم دیکھ سکتے ہیں؟ کیا اس بارے میں کبھی امریکہ اور برطانیہ نے کبھی نہیں سوچا کہ ان مسلمانوں کا کیا قصور ہے؟ اگر یہ تصاویر شائع ہوئیں بھی ہیں تو یہ صرف یہ بتانے کے لئے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ مسلمانوں پر کتنا ظلم کررہے ہیں۔ اس پر تو مسلمانوں کو آپس میں متحد ہوجانا چاہئے۔ سید نومان، کراچی: یہ تصویریں ان تمام بےضمیر اور بغیرت روشن خیال پاکستانیوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو کہ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں۔ بشیر حسین، چترال، پاکستان: امریکہ کا زوال شروع ہوا ہے۔ ایسا سلوک کرنا امریکہ کے لئے ڈوب مرنے کے برابر ہے۔ سائرہ: یہ ظلم عظیم ہے، انتہائی شرمناک فعل ہے۔ ان لوگوں کی اپنی کوئی عزت اور آبرو نہیں ہے۔ لیکن ایک سچے مسلمان کے لئے یہ بےعزتی موت سے بڑھ کر ہے۔ تاریخ ان لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ صائمہ تبسم، پاکستان: یہ بہت برا فعل ہے۔ مجنوں ناجی، حیدرآباد دکن: دنیا میں جنگل کا راج چل رہا ہے۔ یہ دنیا میں کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن سوائے شور مچانے کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ شفیق رحمان، کراچی: ان تصویروں سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مسلمان صرف اور صرف جہاد کے ذریعے ہی اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔ مذاکرات کی بات کرنے والے مسلمانوں کے لئے دل سے یہی دعا نکل رہی ہے کہ جلد ان لوگوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو۔
شوکت حسین، شارجہ: عراق میں امریکی اور برطانوی فوجیوں کے قیدیوں کے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی کے بعد امریکی انچارج جنرل کا یہ بیان کہ وہ شرمندہ ہیں، کچھ مناسب نہیں۔ چاہئے تو یہ کہ امریکی صدر بش اور برطانوی وزیراعظم بلیئر ٹی وی پر آکر کہیں کہ ہم باعث شرم ہیں۔ ایم عمران چٹھہ مانی، پاکستان: امریکہ جو کہ جنیوا کنوینشر کا سب سے زیادہ پرچار کرتا ہے یہ اس کے دعوں کے جھوٹے ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ شاید امریکی بھول گئے ہیں کہ دنیا مکافات عمل ہے اور ہوسکتا ہے کہ کل یہی سب کچھ خود امریکیوں کے ساتھ ہو۔ سید زیدی، اونٹاریو: جارج بش صاحب اب یہ بتائیں کہ مسلمان برے ہیں یا امریکی؟ اور دہشت گرد کون ہیں: مسلمان یا امریکی؟ تمام امریکیوں کے لئے یہ شرم ناک بات ہے۔ نوید سید، امریکہ: یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ نے ایک آزاد اور خودمختار ملک پر زبردستی قبضہ کررکھا ہے۔ کیا یہ انسانیت ہے اور اب وہاں کے لوگوں پر تشدد بھی کررہے ہیں اور مسلم ملک خاموش ہیں، کسی کو شرم بھی نہیں آرہی۔ علی رضا علوی، راولپنڈی: فوجیوں کی طرف سے یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ لیکن اگر کسی اسلامی ملک کی فوج کی طرف سے ہوتا تو جتنا مغربی میڈیا چیختا وہ بات دیکھنے میں نہیں آئی۔ پھر بھی ہم مغرب کے شکرگزار ہیں کہ امریکی اور برطانوی کارپردازوں کو معافی مانگنے تک تو لے آئے۔ لیکن صرف معافی نہیں، ہرجانہ ادا کیا جانا چاہئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||