BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 April, 2004, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق کا حل: آپ کی نظر میں
عراق میں امریکی فوجیوں اور شیعہ ملیشیا کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس نے نجف کے قریب ایک کارروائی میں درجنوں شیعہ ’جنگجو‘ ہلاک کر دیئے ہیں۔ دوسری طرف عراق سے ہسپانوی فوجیوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ یہ امریکہ کا عراق میں جنگ سے پیچھے ہٹنے والا پہلا اتحادی ہے۔

امریکہ جھڑپوں کی نئی لہر کے باوجود اس بات کا اصرار کر رہا ہے کہ وہ پروگرام کے تحت تیس جون کو اقتدار عراق میں ایک عبوری حکومت کے حوالے کر دے گا۔ تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ اقتدار سنبھالنے والی حکومت کو اپنے کچھ اختیارات ’اتحادیوں‘ کو تفویض کر نے پڑیں گے۔

اسی بارے میں:

آپ کی نظر میں عراق کے مسئلے کا حل کیا ہے؟ کیا اب اگر امریکہ عراق کو اس کے حال پر چھوڑ دے تو وہاں موجود مختلف گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش اسے مزید غیرمستحکم بنا دے گی؟ اگر آپ کو عراق کے لئے ایک لائحہ عمل بنانا پڑے تو آپ کیا تجویز کریں گے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

تلاوت بخاری، اسلام آباد: جارج بش کو پھانسی دیدیں۔ صدام حسین پر حملے کرنے کی گستاخی انہوں نے کیوں کی؟ تہذیب یافتہ دنیا ان کے ساتھ دہشت گردی مخالف امریکی جنگ میں شامل تھی۔ صدام پر حملہ کرنے سے ثابت ہوگیا کہ ان کے کچھ چھپے ہوئے مقاصد تھے۔

آصف ججہ، ٹورانٹو: امریکیوں نے دنیا اور اقوام متحدہ سے جھوٹ بولا۔ یہ لوگ معصوم لوگوں کا قتل کررہے ہیں۔ امریکی عراق خالی کریں۔ یہی ایک حل ہے۔

عثمان خان، برطانیہ: امریکہ کو معلوم ہے کہ وہ کیا کررہا ہے۔ اسے اس کے نتائج بھی معلوم تھے۔ ابھی بظاہر تنازعہ عراق سامنے ہے، لیکن پیٹھ پیچھے کچھ اور ہورہا ہے۔ مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے حالات ایسے تبدیل ہونگے کہ اس کے نتائج خطے سے باہر بھی دکھائی دینا شروع کریں گے۔

انتظامیہ شیعہ اکثریت کودیں
 امریکہ عراق کی انتظامیہ شیعہ اکثریت کے حوالے کردے جنہیں کئی عشرے سے تشدد کا سامنا رہا ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا وہاں غیریقینی کی صورتحال برقرار رہے گی۔
شعبان علی، خرم ایجنسی

شعبان علی، خرم ایجنسی: امریکہ عراق کی انتظامیہ شیعہ اکثریت کے حوالے کردے جنہیں کئی عشرے سے تشدد کا سامنا رہا ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا وہاں غیریقینی کی صورتحال برقرار رہے گی۔ جہاں تک کردوں اور سنیوں کا سوال ہے، شیعہ مذہبی رہنما خبردار رہیں اور اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور سنیوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ افغانستان کے طالبان کی طرح حالات نہ بنائیں اور عراق میں سنیوں کو احترام اور حقوق دیں۔

قیصر، بیجنگ: میرے خیال میں اس مسئلے کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کے عراق میں کردار سے ہی ممکن ہے۔ یوں پاکستان اور انڈیا کی افواج بھی عراق میں کردار ادا کرسکتی ہیں مگر امریکہ عراق سے واپس نہیں جائے گا جہاں ہزاروں مرے وہاں سو اور صحیح۔

غلام فرید شیخ، سندھ: اس طرح تو امریکہ اپنے فوجیوں کی لاشیں اٹھاتے اٹھاتے ٹھیک ہوجائے گا۔ اب ایک مختصر حل یہ ہے کہ امریکہ اپنی فوج واپس بلالے اور کسی اسلامی ملک میں مداخلت نہ کرے۔

معاویہ عسکری، کراچی: امریکہ عراقی عوام کو راضی کرے اور پھر مکمل آزادی دیکر چلا جائے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی: میرے خیال میں اس وقت اقوام متحدہ کو سامنے آکر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور دنیا کو بھی بتانا چاہئے کہ اقوام متحدہ کے بنانے کا کوئی فائدہ بھی ہے۔ ورنہ اس کو ختم کردینا چاہئے اور اس وقت جو صورت حال عراق کی ہے دنیا بھر کو نظ آرہی ہے۔

شیر یار خان، سِنگاپور: امریکہ کو چاہئے کہ وہ عراق میں اقوام متحدہ کے تحت پڑوسی ممالک پر مشتمل ایک عبوری کونسل قائم کرے جو ایک مقررہ وقت میں عراقی عوام کی مرضی کی حکومت قائم کرکے عراق سے باہر چالی جائے۔ عراقی عبوری حکومت کی مدد کے لئے بھی اقوام متحدہ کے تحت پڑوسی ممالک پر مشتمل ایک فوج بنائی جائے جو کہ ایک مقررہ مدت تک عراق میں اپنا کام کرکے چلی جائے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد: امریکیوں کے لئے کام کرنیوالے عراقی عوام کے ترجمان نہیں ہیں۔ یہ لوگ حکومت کرنے آئے ہیں، نہ کہ عوام کی نمائندگی کرنے۔

نامعلوم: صدام حسین کو واپس لائیں، اسے معلوم ہے کہ جہادیوں سے کیسے نمٹا جائے۔

اسلامی ممالک سے مدد لیں
 ان حالات میں امریکہ کو اسلامی ممالک سے عراق کی نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں رائے لینی چاہئے۔
محمد عمران، کراچی
محمد عامر خان، کراچی: امریکہ کی یہ عادت ہے کہ جب حالات اس کے بس سے باہر ہورہے ہوتے ہیں تو وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کا یہی حال عراق میں ہوا، ویسے تو اس نے عراقیوں کو بڑا مارا لیکن اس کی فوج کو بھی کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان حالات میں امریکہ کو اسلامی ممالک سے عراق کی نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں رائے لینی چاہئے۔

تبسم عباس جسکانی، پاکستان: اس کا واحد حل یہ ہے کہ یہاں خالص اسلامی حکومت ہو۔

ظفر محمد خان، مانٹریال: عراق کے مسئلے کا نسبتا بہتر حل یہ ہے کہ ابھی امریکہ کی افوج کم از کم مزید تین سال وہاں رہیں اور خاموش عوام کی بہبود اور ترقی کے کام مکمل ہوجانے کے بعد عراق کو تین حصوں میں تقسیم کردی: شیعہ، سنی اور کرد عراق کا مشترکہ دارالحکومت بغداد ہو۔ اور ہر تقسیم شدہ عراق میں دوسرے مذہبی فرقے کو اپنی مذہبی فرائض ادا کرنے کی پوری آزادی ہو۔

عمران سیال، کراچی: مسئلہ عراق کا سب سے اچھا حل یہ ہے کہ اقتدار عراقیوں کو منتقل کیا جائے اور امریکی فوج واپس چلی جائے۔ اور ایسا ہی نظر آرہا ہے کہ امریکی فوج ایک یا دو ماہ میں واپس چلی جائےگی۔

عمر فاروق، برمِنگھم: کیا امریکیوں نے کوئی کام صحیح طریقے سے کیا ہے؟ جہاں بھی وہ گئے، وہاں سے کوئی ایک مثال؟ اسے ایک صلیبی جنگ قرار دیکر شروع کیا گیا تھا تو کیا آپ امریکیوں سے امید کرسکتے ہیں کہ عراقیوں کے لئے کچھ کریں گے؟

خلیل اخون، پاکستان: اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ عراقیوں کو اقتدار سونپ دیا جائے، عراقی مظلوم ہیں، پہلے صدام حسین ڈِکٹیٹر تھا اور امریکہ آگیا۔

رضی رحمان، امریکہ: میرے خیال میں امریکہ اپنی فوج واپس بلالے اور سیاسی طور پر او آئی سی عراق کی انتظامیہ سنبھالے اور اقوام متحدہ اپنی فوج بھیجے۔

ولید خان، کراچی: جارج بش کو چاہئے کہ عراق صدام حسین کے حوالے کردے۔ وہی اس ملک کو چلانے کا تجربہ رکھتا ہے اور ویسے بھی صدام حسین کے پاس کیمیائی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔

اقوام متحدہ کی فوج لائیں
عراق کا مسئلہ میری نظر میں یہ ہے کہ وہاں سے امریکی فوج اور اتحادی فوجیں فوری طور پر واپس نکل جائیں اور اقوام متحدہ کی امن فوج وہاں تعینات کی جائے۔
آمنہ مریم، راولپنڈی

آمنہ مریم، راولپنڈی: عراق کا مسئلہ میری نظر میں یہ ہے کہ وہاں سے امریکی فوج اور اتحادی فوجیں فوری طور پر واپس نکل جائیں اور اقوام متحدہ کی امن فوج وہاں تعینات کی جائے۔ اقوام متحدہ وہاں کے مختلف دھڑوں کے درمیان مذاکرات کرے اور الیکشن کرواکر ان کی مرضی کی حکومت بنائی جائے۔

ابومحسن میاں، سرگودھا: میں مشورہ دینا چاہوں گا کہ امریکہ عراق چھوڑ دے اور صرف وہی مسلم ممالک جنہوں نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا ہے، مسئلے کے حل کے لئے سامنے آئیں۔ وہ ان غیرمسلم ممالک سے بھی مدد لیں جو امریکی قبضے کے خلاف رہے ہیں۔

اصغر خان، چین: اگر پال بریمر آج بھی خلوص دل سے انتخابات کا اعلان کریں تو عراق میں جو جنجگو ہیں وہ سیاسی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ عراق کے مسئلے کا بنیادی حل یہی ہے۔

محمد ثاقب احمد، بہار: عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ امریکہ سے اقتدار لےکر صدام حسین کے حوالے کردے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد