میڈرڈ ریلوے میں تباہ کن دھماکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسپین میں جمعرات کے بم حملوں کے بعد حکام نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ میڈرڈ کے ریلوے میں ہونیوالے ان بم دھماکوں میں ایک سو نوے سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد چودہ سو سے زائد بتائی گئی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان حملوں کی ذمہ دار کون تنظیم ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دھماکے اسپین کے علیحدگی پسند باسک باغیوں نے کیا ہو، یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ القاعدہ کا ہاتھ ہو۔ لیکن مصدقہ طور پر ابھی تک کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ میڈرِڈ میں ہونیوالے ان دھماکوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر آپ دھماکوں کے وقت میڈرِڈ میں تھے تو آپ ہمیں اپنا فون نمبر بھی بھیجیں۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ قاسم قریشی، حیدرآباد: سپین کے واقعات سے امریکہ کا یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوگیا ہے کہ القاعدہ کا صفایا ہوچکا ہے۔ جب تک دنیا میں ظلم اور ناانصافی ہوتی رہے گی، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ، القاعدہ بھی باقی رہے گی۔ ظلم اور ناانصافی ختم ہوجائے تو یہ گروپ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اخلاق حسین، ابوظہبی: یہ بہت ہولناک واقعہ ہے اور انٹرپول کو اس کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کرکے گلیوں میں پھانسی دینی چاہیے یا بھوکے کتوں کے آگے ڈالنا چاہئے۔ عابد عزیز، ملتان: یہ بربریت کی انتہا ہے، خدا مسلمانوں اور دوسرے مذاہب لوگوں پر اپنا کرم فرمائے۔ حسن عسکری، پاکستان: کوئی سائنسی تحقیق ہونی چاہئے کہ دنیا بھر میں درندگی، بربریت، ظلم، خوف اور قتلِ عام کیوں بڑھ گیا ہے اور وہ بھی بےگناہ اور نہتے لوگوں کا۔ کوئٹہ، کاظمین، کربلا، نجف، فلسطین، کشمیرڑ مسکو، نیویارک، سپین، ایک دم گراف اتنا اوپر کیوں چلا گیا؟ محمد صلاح الدین ایوبی، پشاور: میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں جب بھی کہیں ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو صرف مسلمان یا القاعدہ کو ہی کیوں اس کا ذمہ دار ٹھرایا جاتا ہے۔ کیا کوئی اور جیسے کہ زیر زمین مافیا اور سیاسی گروہ اس میں ملوث نہیں ہو سکتے؟ یہ واحد طریقہ بچ گیا ہے مسلمانوں کے نام پر دھبہ لگانے اور ان صحیح آزادی کی تحریکوں کو بدنام کرنے کا۔ محمد یاسین، سعودی عریبیہ: میرا خیال ہے کہ جنگ کے بعد القاعدہ میں اتنا دم نہیں رہ گیا کہ وہ ایسا کر سکے۔ لیکن جس نے بھی یہ کیا ہے، بہت برا کیا ہے۔ عبدالہادی، قرغستان: ایسی کارروائیاں شیطانی مقاصد کے حصول کے لئے جنونی کارکنوں کی برین واشنگ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ بلال کہلون، سانگلہ ہلز: کیا ایسے اقدامات کرنے والوں کے ضمیر زندہ ہیں اور کیا یہ لوگ انسان کہلانے کے حقدار ہیں۔ میرے خیال میں یہ لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں اور انہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ نجیب خان، کراچی: یہ سب کچھ القاعدہ کے سر ڈالنا اور اسے اسلامی تعلیمات کا علمبردار سمجھنا سب سے بڑی بےوقوفی ہے۔ مغربی ممالک نہ جانے اسلام کو ایسے کیوں دیکھتے ہیں کیونکہ یہ کام صرف اور صرف کسی حیوان ہی کا ہو سکتا ہے۔ جہانگیر خان یوسف زئی، کراچی: میرے خیال میں مسلمان ایسا کام نہیں کر سکتے کیونکہ مسلمان امن پسندن ہیں اور ان کا مذہب بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس واقعہ پر تمام مسلمانوں کو رنج ہے۔ جعفر، لاہور: میری رائے میں القاعدہ اور طالبان انسان نہیں اس لئے ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے۔
محمد ظاہر شاہ، کراچی: انسان کہیں بھی قتل ہوں یہ انسانیت کا قتل ہے۔ انسان خدا کی بہترین مخلوق ہیں اور ان میں مسلم غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں۔ خدا انہیں غرق کرے جو انسانیت کا احترام نہیں جانتے۔ خدا سپین میں مرنے والوں کے پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین۔ پرویز اختر، چکوال: جو کچھ ہوا انتہائی شرمناک ہے۔ میری دنیا سے گزارش ہے کہ جب تک حقیقت سامنے نہ آئے مسلمانوں کو بدنام نہ کیا جائے۔ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ نہ ہی مسلمان ہے اور نہ کچھ اور۔ کبیر احمد، بیلجیئم: ان دھماکوں کا ذمہ دار کوئی بھی ہو وہ ہے بہرحال انسانیت کا دشمن۔ معصوم لوگوں کی جانیں لینے والے کسی بھی صورت میں انسان نہیں ہو سکتے۔ ایسے لوگوں کا کوئی مذہب، ملک اور قوم نہیں۔ انجینیئر ہمایوں ارشد، کراچی: ورلڈ ٹریڈ سینٹر بھی سی آئی اے نے تباہ کیا تھا اور یہ بھی اسی کی چال ہے۔ ارشد اقبال، پاکستان: جس نے بھی یہ کیا ہے اسے اس دنیا میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں جہاں ہم امن و محبت سے جینا چاہتے ہیں۔ ضمیر انصاف، انڈیا: میرے خیال میں اسپین نے امریکہ اور برطانیہ کا القاعدہ کے خلاف جنگ میں ساتھ دیا تھا جسکی قیمت اسے چکانی پڑرہی ہے۔ محمد امجد، ڈبلِن، آئرلینڈ: میڈرِڈ میں جو کچھ ہوا ہے اس کی سخت مذمت کی جانی چاہئے۔ ہلاک ہونیوالوں کے رشتہ داروں کو میری دعائیں۔ روزہ، میڈرِڈ: میں گزشتہ شب یہ سوچ کر نہ سو سکی کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ دار ندامت کے احساس کے بغیر کیسے جی سکتے ہیں؟ میں ایک ہسپانوی شہری کی حیثیت سے مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ اسپین اور باقی دنیا میں اب بھی نیک لوگ ہیں۔ امتیاز احمد لون، ٹیکسلا: یہ دھماکے ہر شخص کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ کوئی بھی سچا مسلمان اس کی حمایت نہیں کرے گا۔ فرید اقبال، انگلینڈ: یہ حملہ القاعدہ نے نہیں کیا ہے۔ لیڈیا سانتیاگو، میڈرِڈ: آج میں عدم سیکیورٹی کی شکار ہوں۔ روزانہ لوگ بغیر کسی وجہ کے دنیا کے مختلف علاقوں میں مرتے ہیں، لیکن آج میں نے اس اسٹیشن پر جہاں سے میں روز ٹرین پکڑتی ہوں، ہلاک ہونیوالوں کی لاشیں اور زخمیوں کی دیکھی، یہ خون خرابہ روکنے کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی نہیں۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: غلط بات کوئی بھی کرے، کہیں بھی ہو، غلط ہے۔ ٹیرر کہیں بھی ہو، اس کو کوئی بھی ذی ہوش انسان ٹھیک نہیں کہہ سکتا۔ اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ کرنے والے کون تھے، انسان تو تھے نا۔ شاہد عزیز قریشی، سعودی عرب: معصوم انسانوں کا قتل بالکل صحیح نہیں ہے۔ کوئی مسلمان دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا۔ طاہر ملک، پولینڈ: دھماکوں کے بارے میں سن کر بہت افسوس ہوا کہ اس میں بہت جانیں ضائع ہوگئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کے دل میں خدا کا خوف ختم ہوگیا ہے۔ معصوم لوگوں کو مار کر ان کو کیا فائدہ ہوا؟
البرٹو، میڈرِڈ: میرے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ میرا کوئی رشتہ دار ہلاک نہیں ہوا، لیکن میں اس ٹرین لائن کو جانتا ہوں۔ شاید کل کسی کا اسکول کا ساتھی کلاس نہیں جائے گا۔ انہوں نے کیا کیا ہے؟ محمد آفاق، بریڈفورڈ، انگلینڈ: دہشت گردی جہاں بھی ہو غلط کام ہے۔ میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ سعید کھٹک، نوشہرہ، پاکستان: اسپین میں ہونیوالے دھماکے سفاکانہ کارروائی ہیں۔ میں ان کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ یہ لوگ معصوم انسانوں کے قاتل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی لواحقین کے لئے ہماری دعائیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اسپین کی حکومت کی جانب سے براہ راست اب تک القاعدہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||