نجف: 43 شیعہ ’جنگجو‘ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے نجف کے قریب ایک کارروائی میں تینتالیس شیعہ ’جنگجو‘ ہلاک کر دیئے ہیں۔ یہ واقعہ پیر کی رات کو پیش آیا جب امریکی فوجی ایک فوجی اڈے کو قبضے میں لے رہے تھے جو ہسپانوی فوجیوں کے واپسی کے بعد خالی ہو جائے گا۔ امریکی فوج نے ایک طیارہ شکن توپ تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ امریکی فوج نے واقعہ کی زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔ امریکہ نے کہا ہے کہ منگل کے روز سے فلوجہ میں عراقی فوجیوں کے ساتھ مِل کر شروع ہونے والا گشت مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ یکم جولائی سے عراق میں اقتدار سنبھالنے والی حکومت کو اپنے کچھ اختیارات ’اتحادیوں‘ کو تفویض کر نے پڑیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کالن پاول نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ عراق کی نئی حکومت مکمل طور پر خود مختار ہوگی لیکن اسے اپنے کچھ اختیارات میں شراکت کرنے پڑے گی تاکہ امریکی فوج کی قیادت اس کے اپنے پاس رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ مجھے اُمید ہے کہ وہ اس بات کو سمجھیں گے موثر ہونے کے لئے کسی حد تک خودمختاری میں شراکت کرنی ہوگی‘۔ کالن پاول کے اس بیان سے قبل فالوجہ میں عراقی جنگجؤوں اور امریکی فوجیوں کے درمیان زبردست لڑائی دیکھنے میں آئی جس دوران امریکہ کے مطابق کم از کم ایک امریکی فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہو ئے۔ فلوجہ کے علاوہ کوفہ اور نجف سے بھی تازہ لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جبکہ بغداد میں ایک دھماکے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکہ جھڑپوں کی نئی لہر کے باوجود اس بات کا اصرار کر رہا ہے کہ وہ پروگرام کے تحت تیس جون کو اقتدار عراق میں ایک عبوری حکومت کے حوالے کر دے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||