| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’امریکہ، برطانیہ کی نیت ٹھیک نہیں‘
عراق کے ایک ممتاز شیعہ عالمِ دین حجت الاسلام علی عبدالحکیم الصافی نے امریکہ کے صدر بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو ایک خط بھیجا ہے جس میں عراقیوں کو اقتدار سونپنے کے بارے میں ان کی نیت پر شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کہ کا یہ پروگرام کہ جون کے آخر تک حاکمیت اعراقی عبوری انتظامیہ کے سپرد کرنے کا تعلق عراقیوں کے مفادات سے زیادہ امریکی صدارتی انتخاب سے معلوم ہوتا ہے۔ اس خط کی خبر بصرے میں ہزارہا عراقیوں کے مظاہرہ کے وقت آئی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ عراق کے نۓ حاکموں کا انتخاب براہ راست ووٹنگ سے ہونا چاہیۓ ۔ امریکی منصوبے کی مخالفت کی مہم عراق میں اعلیٰ مذہبی رہنماء آیت اللہ علی سیستانی نے شروع کی ہے۔ انہوں نے امریکی منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ادھرعراقی گورننگ کونسل کے سربراہ عدنان پاچاچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بات طے نہیں کی جاتی کہ حکومت کا انتخاب کیسے ہوگا تو ممکن ہے کہ ملک پر امریکیوں کے زیر قیادت قبضہ مزید دوسال جاری رہے۔ امریکی منتظم پال بریمر آج واشنگٹن میں صدر بش اور دوسرے سینیئر افسروں سے اس تازہ بحران کے بارے میں بات کرنے والے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||