بغداد: امریکی فوجیوں پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی جنگجوؤں نے بغداد کے شمالی حصے میں امریکی فوجیوں کو چھپ کر حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے رپورٹر نے کہا ہے کہ دو امریکی فوجی گشتی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے ایک گھر بھی منہدم ہو گیا۔ بعض عینی شاہدوں کے مطابق یہ گشتی گاڑی سڑک کے کنارے نصب بموں کے باعث دھماکے سے اڑ گئیں جبکہ بعض کا کہنا ہے ان گاڑیوں کو راکٹ کی مدد سے چلنے والے دستی بموں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایک عراقی پولیس اہلکار کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ میں متعدد امریکی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے عراق میں موجود امریکی حکام نے کہا تھا کہ شیعہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی نجف شہر کے، جسے امریکی فوج نے گھیرے میں لے رکھا ہے، سکولوں اور مسجدوں میں اسلحہ جمع کر رہے ہیں۔ امریکی فوج کے ترجمان ڈین سینر نے کہا تھا کہ علاقے میں خطرناک صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔
امریکی کمانڈروں نے واضح کیا تھا کہ وہ شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کو گرفتار یا ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ مقتدیٰ الصدر کا کہنا یہ تھا کہ اگر فلوجہ پر حملہ کیا گیا تو ان کے حامی خودکش حملے کریں گے۔ دوسری جانب یہ اطلاعات ہیں کہ امریکی کمانڈروں نے صدر جارج بش کے صلاح مشورے کے بعد محصور شہر فلوجہ میں عراقی جنگجوؤں کے خلاف بھرپور کارروائی کا منصوبہ ملتوی کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ مقامی مصالحت کاروں سے طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکی فوج منگل سے عراقی محافظ دستوں کے ہمراہ فلوجہ میں گشت شروع کر دے گی۔ واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صدر بش پر یہ بات بظاہر آشکار ہو گئی ہے کہ بھرپور حملے کے نتائج اور خطرات انتہائی زیادہ ہوں گے۔ تاہم امریکی ترجمان کے بقول امریکہ فوج بھی استعمال کر سکتا ہے۔ عراق کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدر براہیمی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ فلوجہ کے برہم عوام کو تنہا کرنے سے گریز کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||