نجف کے خلاف کارروائی کی تیاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی عراق میں نجف پر ممکنہ حملے کے لیے جمع ہو رہے ہیں اور صدر بش نے کہا ہے کہ تشدد کے باوجود امریکہ عراق میں اپنے عزم پر قائم ہے۔ اس دوران عراقی دارالحکومت بغداد کے مغرب میں چار مسخ شدہ نعشیں ملی ہیں اور اور امریکی وزارتِ خارجہ نے حکام کا خیال ہے کہ وہ ان چار امریکی ٹھیکیداروں کی ہو سکتی ہیں جو گزشتہ ہفتے تیل لے جانے والے قافلے پر حملے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ اس کارروائی یا حملے کا مقصد شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کو نشانہ بنانا بتایا جا رہا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا وہ نجف میں امریکی اتحادیوں کے خلاف مزاحمتی مہم جاری کیے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بغداد میں امریکی کمانڈر نے حکم جاری کر دیا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کو یا تو گرفتار کیا جائے یا انہیں ہلاک کر دیا جائے۔ تاہم عراق اور نجف کے دوسرے مذہبی رہنما اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ مذہبی تقدیس کے حامل نجف پر امریکی حملہ نہ ہو۔ نامہ نگاروں کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں اس بات کا احتمال ہے کہ عراق کی شیعہ اکثریت جسے بالعموم امریکیوں کا حامی خیال کیا جاتا ہے امریکیوں کی مخالف بن سکتی ہے۔ اس دوران نجف مکمل طور پر پُرسکون بتایا جاتا ہے اور امریکی تربیت یافتہ عراقی پولیس کے دستوں نے ان پولیس اسٹیشنوں کا نظام سنبھال لیا ہے جنہیں مقتدیٰ الصدر کے حامیوں یا مبینہ فوج کے ارکان نے خالی کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||