عراق: دستبرداری، اغواء، مزید فوج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحادی افواج کے مطابق عراق میں ماہِ رواں میں ستراتحادی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ مارے جانے والے مقامی لوگوں کی تعداد اس سے دس گنا زیادہ ہے۔ اس دوران چینیوں کی رہائی کے بعد کہا جا رہا ہے کہ گیارہ روسیوں کو اغوا کر لیا گیا ہے جس کے بعد امریکی کمانڈروں نے بقول ان کے ’اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پانے کے لئے‘ مزید دو بریگیڈ فوج بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ عراق سے ملنے والی دوسری تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نجف شہر سے شیعہ رہنما مقتدٰی الصدر کے مسلح حامیوں نے اتحادی افواج سے ایک سمجھوتے کے تحت سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنوں کو خالی کرنا شروع کردیا ہے۔ دستبرداری سے خالی ہونے والے پولیس اسٹیشنوں اور عمارتوں میں اب عراقی دستے تعینات کیے جائیں گے۔ ابھی تک خود امریکیوں نے اس سمجھوتے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ تاہم امریکیوں اور مقتدٰی الصدر کے مابین مبینہ مفاہمت کرانے والے ایک شیعہ گروپ کے رکن عدنان علی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ:
’طے یہ پایا ہے کہ مقتدٰی الصدر اپنی ملیشیا ختم کریں گے۔ دوسرے یہ کہ ان کے حامی سرکاری عمارتیں خالی کردیں گے۔وہ اپنے خلاف قائم مقدمہ ختم ہونے تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے اور ان کی گرفتاری دو ماہ تک ملتوی رہے گی۔ جب کہ ریاستی خودمختاری عراقیوں کے حوالے کی جائے گی۔ اور آخری بات یہ کہ اتحادی افواج نہ تو مقتدٰی الصدر کو گرفتار کرنے کی کوشش کریں گی اور ہی نجف یا کربلا میں داخل ہوں گی۔ امریکہ کی مرکزی کمانڈ کے جنرل جان ابی زید نے کیگ بغداد سے خصوصی مواصلاتی رابطے کے ذریعے واشنگٹن میں امریکی نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے عراقی فوج پر شورش پسندوں سے مقابلہ نہ کرنے پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ عراقی دستوں نے جنگجوؤں کا بھر پور مقابلہ نہیں کیا۔ مقتدیٰ الصدر کے بارے میں امریکی کمانڈروں نے کہا تھا کہ وہ انہیں گرفتاریا قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اب تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ خیال ہے کہ وہ شہر ہی میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||